سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 473
سیرت المہدی 473 حصہ دوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یوں یوں گفتگو ہوئی تھی۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی بنا پر میں یہ جانتا تھا کہ منشی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود کے دعوئی مسیحیت سے پہلے ہی انتقال کر گئے تھے۔اور یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی ملاقات حضرت صاحب کے ساتھ بعد دعویٰ مسیحیت ہوئی ہے۔پس لا محالہ مجھے یہ شک پیدا ہوا کہ مولوی صاحب کو اس بات کا علم کیسے ہوا۔چنانچہ میں نے مولوی صاحب سے سوال کیا اور انہوں نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں نے خود منشی صاحب مرحوم کو نہیں دیکھا چنانچہ میں نے یہ بات روایت کے اختتام پر نوٹ کر دی۔الغرض میں نے اپنی طرف سے تو حتی الوسع بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔لیکن اگر میں نے کسی جگہ غلطی کھائی ہے یا کوئی کمزوری دکھائی ہے تو میں جانتا ہوں کہ میں ایک کمزور انسان ہوں۔اور غلطی کا اعتراف کر لینا میرے مذہب میں ہرگز موجب ذلت نہیں بلکہ موجب عزت ہے۔پس اگر اب بھی ڈاکٹر صاحب یا کسی اور صاحب کی طرف سے کوئی ایسی بات ثابت کی جائے جس میں میں نے کوئی غلط یا قابل اعتراض یا غیر محتاط طریق اختیار کیا ہے۔تو میں نہ صرف اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کروں گا بلکہ ایسے صاحب کا ممنون احسان ہونگا۔افسوس صرف یہ ہے کہ محض اعتراض کرنے کے خیال سے اعتراض کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کی کوشش کو بلا وجہ حقیر اور بے فائدہ ثابت کرنے کا طریق اختیار کیا جاتا ہے۔ورنہ ہمدردی کے ساتھ علمی تبادلہ خیالات ہو تو معترض بھی فائدہ اُٹھائے۔مصنف کی بھی تنویر ہو اور لوگوں کے معلومات میں بھی مفید اضافہ کی راہ نکلے۔اب میری کتاب ان مسائل کے متعلق تو ہے نہیں۔جو مبایعین اور غیر مبایعین کے درمیان اختلاف کا موجب ہیں بلکہ ایک ایسے مضمون کے متعلق ہے جو تمام احمدی کہلانے والوں کے مشترکہ مفاد سے تعلق رکھتا ہے اور پھر اس مضمون کی اہمیت اور ضرورت سے بھی کسی احمدی کو انکار نہیں ہوسکتا۔اندریں حالات اس قسم کی تصنیفات کے متعلق صرف اس خیال سے کہ ان کا مصنف مخالف جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔خواہ نخواہ مخالفانہ اور غیر ہمدردانہ اور دل آزار طریق اختیار کر ناولوں کی کدورت کو زیادہ کرنے کے سوا اور کیا نتیجہ پیدا کرسکتا ہے۔پھر ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ سیرۃ المہدی میں محدثین کی ظاہری نقل تو کی گئی ہے لیکن ان