سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 462
حصہ دوم رت المهدی 462 سکیں ان کو ایک جگہ جمع کر کے محفوظ کر لیا جائے۔ترتیب و استنباط و استدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا۔کیونکہ وہ ہر وقت ہو سکتا ہے مگر جمع روایات کا کام اگر اب نہ ہوا تو پھر نہ ہو سکے گا اس عبارت کو لے کر ڈاکٹر صاحب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں ترتیب و استدلالات کے کام کو بعد کے لئے چھوڑا جانا بیان کیا گیا ہے حالانکہ خود کتاب کے اندر جابجا استدلالات موجود ہیں۔پس استدلالات کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ ایک غلط بیانی ہے اور گویا ناظرین کے ساتھ ایک دھو کہ کیا گیا ہے۔اس کے جواب میں میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ اگر بالفرض اس عبارت کے وہی معنی ہوں جو ڈاکٹر صاحب نے کئے ہیں تو پھر بھی یہ کوئی غلط بیانی یا دھو کہ بازی نہیں ہے جو قابل ملامت ہو بلکہ میرا یہ فعل قابل شکر یہ سمجھا جانا چاہیے۔لیکن حق یہ ہے کہ اس عبارت کہ وہ معنی ہی نہیں ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے قرار دئے ہیں بلکہ اس میں صرف اس استدلال کا ذکر ہے جس کی ضرورت ترتیب کے نتیجہ میں پیش آتی ہے یعنی مراد یہ ہے کہ اس مجموعہ میں ترتیب ملحوظ نہیں رکھی گئی اور نہ وہ استدلالات کئے گئے ہیں جو مختلف روایات کے ملانے اور ترتیب دینے کے نتیجہ میں ضروری ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میرے الفاظ یہ ہیں۔ترتیب واستنباط واستدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا۔‘ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں وہ استدلال مراد ہے جو تر تیب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے نہ کہ وہ عام تشریحات جو انفرادی طور پر روایات کے ضمن میں دی جاتی ہیں چنانچہ میرے اس دعوای کی دلیل وہ الفاظ ہیں جو اس عبارت سے تھوڑی دور آگے چل کر میں نے لکھے ہیں اور جن کو ڈاکٹر صاحب نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔وہ الفاظ یہ ہیں۔میں نے بعض جگہ روایات کے اختتام پر اپنی طرف سے مختصر نوٹ دئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس مجموعہ کے جمع کرنے میں میرے سب کاموں سے یہ کام زیادہ مشکل تھا۔بعض روایات یقیناً ایسی ہیں کہ اگر ان کو بغیر نوٹ کے چھوڑا جاتا تو ان کے اصل مفہوم کے متعلق غلط فہمی پیدا ہونے کا احتمال تھا مگر ایسے نوٹوں کی ذمہ داری کلیاً۔خاکسار پر ہے ( دیکھو عرض حال سیرۃ المہدی )