سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 463 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 463

سیرت المہدی 463 حصہ دوم ان الفاظ کے ہوتے ہوئے کوئی انصاف پسند شخص استنباط واستدلال سے وہ عام تشریحی نوٹ مراد نہیں لے سکتا جو انفرادی روایات کے متعلق بطور تشریح کے دئے جاتے ہیں بلکہ اس سے وہی استدلالات مقصود سمجھے جائیں گے۔جن کی مختلف روایات کو ملانے اور ترتیب دینے کے نتیجہ میں ضرورت پیش آتی ہے ناظرین غور فرمائیں کہ ایک طرف تو میری طرف سے یہ نوٹ درج ہے کہ ترتیب اور استنباط و استدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا اور دوسری طرف اسی جگہ میری یہ تحریر موجود ہے کہ میں نے مختلف روایات کے متعلق تشریحی نوٹ دیئے ہیں اب ان دونوں تحریروں کے ہوتے ہوئے جو میرے ہی ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک ہی کتاب کے عرض حال میں ایک ہی جگہ موجود ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا صرف ایک عبارت کو لے کر اعتراض کے لئے اُٹھ کھڑا ہونا اور دوسری عبارت کا ذکر تک نہ کرنا کہاں تک عدل و انصاف پر مبنی سمجھا جا سکتا ہے؟ میں نے اگر ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ میں نے اس کتاب میں استدلال نہیں کئے تو دوسری جگہ یہ عبارت بھی تو میرے ہی قلم سے نکلی ہوئی ہے کہ میں نے جابجا تشریحی نوٹ دیئے ہیں۔اس صورت میں اگر ڈاکٹر صاحب ذرا وسعت حوصلہ سے کام لیتے اور میرے ان استدلالات“ کو جو ان کی طبیعت پر گراں گذرے ہیں وہ تشریحی نوٹ سمجھ لیتے جن کا میں نے اپنے عرض حال میں ذکر کیا ہے تو بعید از انصاف نہ تھا مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں میں نے یہ لکھا ہے اس کتاب میں ترتیب و استنباط و استدلال سے کام نہیں لیا گیا وہاں جیسا کہ میرے الفاظ سے ظاہر ہے وہ استدلالات مراد ہیں جو مختلف روایات کے ترتیب دینے کے نتیجہ میں ضروری ہوتے ہیں۔اور وہ تشریحی نوٹ مراد نہیں ہیں۔جو انفرادی طور پر روایات کے ساتھ دیئے جاتے ہیں۔کیونکہ دوسری جگہ میں نے خود صاف لکھ دیا ہے کہ میں نے جا بجا تشریحی نوٹ دیئے ہیں۔امید ہے یہ تشریح ڈاکٹر صاحب کی تسلی کے لئے کافی ہوگی۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں میں نے استدلال و استنباط کا ذکر کیا ہے وہاں وہ استدلالات بھی مراد ہیں جو واقعات سے سیرۃ و اخلاق کے متعلق کئے جاتے ہیں۔بھنے منشاء یہ ہے کہ جو