سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 461
رت المہدی 461 حصہ دوم تبدیلی کا اگر کوئی نتیجہ ہے تو صرف یہی ہے کہ ایک زائد بات جس کا میں نے ناظرین کو وعدہ نہیں دلایا تھا ایک حد تک ناظرین کو حاصل ہو گئی۔میں نے روایات کے جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا او وہ وعدہ میں نے پورا کیا۔استدلال و استنباط کی امید میں نے نہیں دلائی تھی بلکہ اسے کسی آئندہ وقت پر ملتوی کیا تھا لیکن بایں ہمہ کہیں کہیں ضرورت کو دیکھ کر یہ کام بھی ساتھ ساتھ کرتا گیا ہوں۔گویا میرا جرم یہ ہے کہ جس قدر بوجھ اُٹھانے کی ذمہ داری میں نے لی تھی اس سے کچھ زیادہ بوجھ اُٹھایا ہے اور میرے اس جرم پر ڈاکٹر صاحب غضبناک ہور ہے ہیں۔فرماتے ہیں ایک طرف یہ سب بخشیں دیکھو اور دوسری طرف اس کتاب کے متعلق اس بیان کو دیکھو کہ استدلال کا وقت بعد میں آئے گا۔تو حیرت ہو جاتی ہے۔“ مکرم ڈاکٹر صاحب ! بے شک آپ کو حیرت ہوتی ہوگی کیونکہ آپ کے مضمون سے ظاہر ہے کہ آپ کے سینہ میں قدر شناس دل نہیں ہے ور نہ اگر کوئی قدردان ہوتا تو بجائے اعتراض کرنے کے شاکر ہوتا۔یہ تو میں نے صرف اصولی جواب دیا ہے ورنہ حقیقی جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ استدلال و استنباط کے متعلق میں نے جو کچھ سیرۃ المہدی میں لکھا ہے اس کا وہ مطلب ہرگز نہیں ہے جو ڈاکٹر صاحب سمجھے ہیں اور میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے کس طرح میری عبارت سے یہ مطلب نکال لیا ہے۔حالانکہ اس کا سیاق و سباق صریح طور پر اس کے خلاف ہے۔اگر ڈاکٹر صاحب جلد بازی سے کام نہ لیتے اور میری جو عبارت ان کی آنکھوں میں کھٹکی ہے اس سے کچھ آگے بھی نظر ڈال لیتے تو میں یقین کرتا ہوں کہ ان کی تسلی ہو جاتی مگر غضب تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے دل میں اعتراض کرنے کا شوق ایسا غلبہ پائے ہوئے ہے کہ جو نہی ان کو کوئی بات قابل گرفت نظر آتی ہے وہ اسے لے دوڑتے ہیں اور اس بات کی تکلیف گوارا نہیں کرتے کہ اس کے آگے پیچھے بھی نظر ڈال لیں۔میں ڈاکٹر صاحب کے اپنے الفاظ میں یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ اس طرح وہ مفت میں اپنا مذاق اڑواتے ہیں مگر یہ ضرور کہوں گا کہ یہ طریق انصاف سے بہت بعید ہے۔میری جس عبارت کو لے کر ڈاکٹر صاحب نے اعتراض کیا ہے وہ یہ ہے ” میرے نزدیک اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے متعلق جتنی بھی روائتیں جمع ہو