سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 451 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 451

سیرت المہدی 451 حصہ دوم مزید بدمزگی پیدا کرنے سے کیا حاصل ہے۔پس میری صرف خدا سے ہی دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ میرے ان الفاظ کو نیک نیتی پر محمول سمجھ کے اپنے طرز تحریر میں آئندہ کے لئے اصلاح کی طرف مائل ہوں اور ساتھ ہی میری خدا سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ میرے نفس کی کمزوریوں کو بھی عام اس سے کہ وہ میرے علم میں ہوں یا مجھ سے مخفی ہوں دورفرما کر مجھے اپنی رضامندی کے رستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔اللھم آمین۔اصل مضمون شروع کرنے سے قبل مجھے ایک اور بات بھی کہنی ہے اور وہ یہ کہ علاوہ دل آزار طریق اختیار کرنے کے ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں غیر جانبدارانہ انصاف سے بھی کام نہیں لیا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تنقید کرنے والے کا یہ فرض ہے کہ وہ جس کتاب پر ریویو کرنے لگا ہے۔اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالے۔یعنی اچھی اور بری دونوں باتوں کو اپنی تنقید میں شامل کر کے کتاب کے حسن و قبح کا ایک اجمالی ریو یولوگوں کے سامنے پیش کرے۔تاکہ دوسرے لوگ اس کتاب کے ہر پہلو سے آگاہی حاصل کرسکیں۔یہ اصول دنیا بھر میں مسلم ہیں۔اور اسلام نے تو خصوصیت کے ساتھ اس پر زور دیا ہے چنانچہ یہود و نصاری کے باہمی تنازع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْ ءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتب۔(سورة البقرة: ۱۱۴) يعنى یہود و نصارے ایک دوسرے کے خلاف عداوت میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ ایک دوسرے کے محاسن ان کو نظر ہی نہیں آتے اور یہود یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ نصاری میں کوئی خوبی نہیں ہے اور نصارے یہ کہتے ہیں کہ یہود تمام خوبیوں سے معر ا ہیں۔حالانکہ دونوں کو کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیے کہ تو رات اور نبیوں پر ایمان لانے میں وہ دونوں ایک دوسرے کے شریک حال ہیں۔پھر فرماتا ہے۔لَا يَجْرِمَنَّكُمُ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَنْ لَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى (المائدة: 9) یعنے کسی قوم کی عداوت کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان انصاف کو ہاتھ سے دے دے کیونکہ بے انصافی تقوی سے بعید ہے اور پھر عملاً بھی قرآن شریف نے اسی اصول کو اختیار کیا ہے۔چنانچہ شراب وجوئے کے متعلق اجمالی ریویو کرتے ہوئے