سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 450
سیرت المہدی 450 حصہ دوم کے طویل مضمون میں شروع سے لیکر آخر تک بغض و عداوت کے شرارے اُڑتے نظر آتے ہیں۔اور ان کے مضمون کا لب ولہجہ نہ صرف سخت دل آزار ہے بلکہ ثقاہت اور متانت سے بھی گرا ہوا ہے۔جابجا تمسخرآمیز طریق پر ہنسی اڑائی گئی ہے۔اور عامی لوگوں کی طرح شوخ اور چست اشعار کے استعمال سے مضمون کے تقدس کو بری طرح صدمہ پہنچایا گیا ہے۔مجھے اس سے قبل ڈاکٹر صاحب کی کسی تحریر کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اور حق یہ ہے کہ باوجود عقیدہ کے اختلاف کے میں آج تک ڈاکٹر صاحب کے متعلق اچھی رائے رکھتا تھا۔مگر اب مجھے بڑے افسوس کے ساتھ اس رائے میں ترمیم کرنی پڑی ہے۔مجھے یاد نہیں کہ میری ذات کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کو آج تک کبھی کوئی وجہ شکایت کی پیدا ہوئی ہو۔پس میں ڈاکٹر صاحب کے اس رویہ کو اصول انتقام کے ماتحت لا کر بھی قابل معافی نہیں سمجھ سکتا۔میں انسان ہوں۔اور انسانوں میں سے بھی ایک کمزور انسان۔اور مجھے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کہ میری رائے یا تحقیق غلطی سے پاک ہوتی ہے اور نہ ایسا دعوای کسی عقل مند کے منہ سے نکل سکتا ہے۔میں نے اس بات کی ضرورت سمجھ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات جلد ضبط تحریر میں آجانے چاہئیں۔محض نیک نیتی کے طور پر سیرت المہدی کی تصنیف کا سلسلہ شروع کیا تھا۔اگر اس میں میں نے غلطی کی ہے یا کوئی دھوکہ کھایا ہے تو ہر شخص کا حق ہے کہ وہ مجھے میری غلطی پر متنبہ کرے تا کہ اگر یہ اصلاح درست ہو تو نہ صرف میں خود آئندہ اس غلطی کے ارتکاب سے محفوظ ہو جاؤں۔بلکہ دوسرے لوگ بھی ایک غلط بات پر قائم ہونے سے بچ جائیں۔لیکن یہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ بلا وجہ کسی کی نیت پر حملہ کرے۔اور ایک نہایت درجہ دل آزار اور تمسخرآمیز طریق کو اختیار کر کے بجائے اصلاح کرنے کے بغض و عداوت کا ختم ہوئے۔اس قسم کے طریق سے سوائے اس کے کہ دلوں میں کدورت پیدا ہو اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے زور قلم کا بہت نامناسب استعمال کیا ہے جسے کسی مذہب و ملت کا شرافت پسند انسان بھی نظر استحسان سے نہیں دیکھ سکتا۔میں ڈاکٹر صاحب کے مضمون سے مختلف عبارتیں نقل کر کے ان کے اس افسوس ناک رویہ کوثابت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔لیکن بعد میں مجھے خیال آیا کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اب ان عبارتوں کو نقل کر کے