سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 434 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 434

سیرت المہدی 434 حصہ دوم 455 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ جب آخری دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور جا کر ٹھہرے تو میں ان دنوں خواجہ صاحب کا ملازم تھا۔اور حضرت صاحب کی ڈاک لا کر حضور کو پہنچایا کرتا تھا۔اور ڈاک میں دو تین خط بیرنگ ہوا کرتے تھے جو میں وصول کر لیتا تھا اور حضرت صاحب کو پہنچا دیتا تھا اور حضرت صاحب مجھے ان کے پیسے دیدیا کرتے تھے۔ایک دن میں نے خواجہ صاحب کے سامنے بیرنگ خط وصول کئے تو خواجہ صاحب نے مجھے روکا کہ بیرنگ خط مت لو۔میں نے کہا میں تو ہر روز وصول کرتا ہوں اور حضرت صاحب کو پہنچا تا ہوں اور حضرت نے مجھے کبھی نہیں روکا۔مگر اس پر بھی مجھے خواجہ صاحب نے سختی کیسا تھ روک دیا۔جب میں حضرت صاحب کی ڈاک پہنچانے گیا تو میں نے عرض کیا کہ حضور آج مجھے خواجہ صاحب نے بیرنگ خط وصول کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔حضور فرما ئیں تو میں اب بھی بھاگ کر لے آؤں۔حضرت صاحب مسکرائے اور فرمانے لگے کہ ان بیرنگ خطوں میں سوائے گالیوں کے کچھ نہیں ہوتا اور یہ خط گمنام ہوتے ہیں۔اگر یہ لوگ اپنا پتہ لکھ دیں تو ہم انہیں سمجھا سکیں مگر شاید یہ لوگ ڈرتے ہیں کہ ہم ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کریں حالانکہ ہمارا کام مقدمہ کرنا نہیں ہے۔اس دن سے میں نے بیرنگ خط وصول کر نے چھوڑ دیئے۔456 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب دہلوی نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میں نے خواجہ کمال الدین صاحب کی زبانی سُنا ہے کہ جن دنوں میں حضرت صاحب کے خلاف مولوی کرم دین نے گورداسپور میں مقدمہ دائر کر رکھا تھا اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب حضرت صاحب کی طرف سے پیروی کرتے تھے۔ان دنوں میں ایک دفعہ خواجہ صاحب کچھ دنوں کے لئے پشاور اپنے اہل وعیال کے پاس آئے جہاں وہ اس زمانہ میں پریکٹس کیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حضرت مولوی عبدالکریم مرحوم بھی حضرت صاحب سے اجازت لے کر پشاور دیکھنے کیلئے چلے آئے۔خواجہ صاحب نے بیان کیا کہ جب میں پشاور آیا تو بیوی بچوں کو بہت پریشان حال پایا کیونکہ ان کے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہیں تھا اور وہ کچھ دنوں سے قرض لے کر گزارہ کرتے تھے جس پر میں نے بیوی کے تین سو روپے کے کڑے فروخت کر دیئے اور