سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 435 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 435

سیرت المہدی 435 حصہ دوم اس طرح اپنے گزارہ کا انتظام کیا اس حالت کا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو بھی علم ہو گیا اور انہوں نے واپس آکر گورداسپور میں حضرت صاحب سے ساری کیفیت عرض کر دی۔حضرت صاحب کو یہ واقعہ سن کر رنج ہوا اور آپ نے فرمایا کہ ہم انشاء اللہ دعا کریں گے۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے اندرون خانہ سے تین سو روپے میاں محمود احمد صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ ثانی ) کے ہاتھ مولوی عبدالکریم صاحب کو بھجوائے کہ یہ روپیہ خواجہ صاحب کیلئے ہے ان کو دیدیں۔مولوی صاحب نے میاں صاحب کو میرے پاس بھیج دیا۔مجھے جب یہ روپیہ ملا تو میں اسے لے کر فوراً مولوی صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ یہ کیسا روپیہ ہے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں نے تمہاری حالت حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کر دی تھی اور اب حضرت صاحب نے یہ روپیہ بھجوایا ہے۔میں نے عرض کیا مولوی صاحب آپ نے یہ کیا غضب کر دیا۔مولوی صاحب نے فرمایا اگر حضرت صاحب سے عرض نہ کیا جا تا تو اور کس سے کہا جاتا۔اللہ تعالیٰ کے نیچے ہمارے لئے اس وقت حضور ہی ہیں۔تم خاموش ہو کر روپیہ لے لو اور خدا کا شکر کرو یہ روپیہ بہت بابرکت ہے۔اور حضرت صاحب نے تمہارے واسطے دعا کا بھی وعدہ فرمایا ہے۔چنانچہ میں نے وہ روپیہ رکھ لیا اور پھر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ گورداسپور میں ہی میرے پاس مقدمات آنے لگ گئے اور روز دو چار موکل آجاتے تھے اور میں نے اس قدر جلد حضرت کی دعا کا اثر دیکھا کہ جس کی کوئی حد نہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ واقعہ کسی قدر اختلاف کے ساتھ حضرت خلیفہ امسیح ثانی سے بھی سنا ہوا ہے۔مگر اس کی تفصیل مجھے یاد نہیں رہی۔457 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب دہلوی نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک معزز احمدی کو سر پر تول چندر چڑ جی بنگالی کا ایک رشتہ دار گاڑی میں مل گیا اور اسے انہوں نے تبلیغ کی اور وہ بہت متاثر ہوا اور ان کے ساتھ قادیان چلا آیا اور یہاں آکر مسلمان ہو گیا۔نام کی تبدیلی کے متعلق کسی نے عرض کیا تو حضور نے فرمایا کہ ان کا اپنا نام بھی اچھا ہے بس نام کے ساتھ احمد زیادہ کر دوکسی اور تبدیلی کی ضرورت نہیں۔لوگوں نے اس کے بنگالی طرز کے بال کروا دئیے جسے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ