سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 433
سیرت المہدی 433 حصہ دوم معلوم ہوتا ہے ( گواس معاملہ میں صراحت نہیں ہے ) کہ جب ہمارے دادا صاحب کی وفات ہوئی اور اس سے قبل حضرت صاحب کو یہ الہام ہوا تو اسی زمانہ میں حضرت صاحب نے یہ انگوٹھی تیار کر والی تھی۔سو یا تو اس روایت میں جو نگینہ کی تیاری کا ذکر ہے یہ کوئی دوسرا واقعہ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہ نگینہ دو دفعہ تیار کرایا گیا ہے اور یا اس کی پہلی تیاری ہی بعد میں براہین احمدیہ کے زمانہ میں ہوئی ہے یعنی الہام ۱۸۷۶ء میں ہوا ہے۔جبکہ دادا صاحب کی وفات ہوئی اور انگوٹھی چند سال بعد میں تیار کرائی گئی ہے۔اور اس روایت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی مؤخر الذکر صورت زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔واللہ اعلم۔454 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ خواجہ کمال الدین صاحب سے میں نے سُنا ہے کہ مولوی کرم دین بھیں والے کے مقدمہ کے دوران میں ایک دفعہ حضرت صاحب بٹالہ کے رستے گورداسپور کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ساتھ رتھ میں خود خواجہ صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب مرحوم تھے اور باقی لوگ یکوں میں پیچھے آرہے تھے۔اتفاق یکے کچھ زیادہ پیچھے رہ گئے اور رتھا اکیلی رہ گئی۔رات کا وقت تھا آسمان ابر آلود تھا اور چاروں طرف سخت اندھیرا تھا۔جب رتھ وڈالہ سے بطرف بٹالہ آگے بڑھا تو چند ڈا کو گنڈاسوں اور چھریوں سے مسلح ہو کر راستہ میں آگئے اور حضرت صاحب کی رتھ کو گھیر لیا اور پھر وہ آپس میں یہ تکرار کرنے لگ گئے کہ ہر شخص دوسرے سے کہتا تھا کہ تو آگے ہو کر حملہ کر مگر کوئی آگے نہ آتا تھا اور اسی تکرار میں کچھ وقت گذر گیا اور اتنے میں پچھلے یکے آن ملے اور ڈا کو بھاگ گئے۔قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ خواجہ صاحب بیان کرتے تھے کہ اس وقت یعنی جس وقت ڈاکو حملہ کر کے آئے تھے میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کی پیشانی سے ایک خاص قسم کی شعاع نکلتی تھی جس سے آپ کا چہرہ مبارک چمک اُٹھتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادیان اور بٹالہ کی درمیانی سڑک پر اکثر چوری اور ڈاکہ کی وارداتیں ہو جاتی ہیں مگر اس وقت خدا کا خاص تصرف تھا کہ ڈا کو خود مرعوب ہو گئے اور کسی کو آگے آنے کی جرات نہیں ہوئی۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ خواجہ صاحب سے انہی دنوں میں بمقام پشاور سنا تھا۔