سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 374 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 374

سیرت المہدی 374 حصہ دوم جس میں دہلی والوں کو اپنے دعوی کی طرف دعوت دی اور اس اشتہار میں مولوی سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی اور مولوی ابومحمد عبد الحق صاحب کو مباحثہ کے لئے بھی بلایا۔تا کہ لوگوں پر حق کھل جاوے اور اپنی طرف سے مباحثہ کے لئے تین شرطیں بھی پیش کیں۔اس کے بعد آپ نے ۶ را کتوبر کو ایک اور اشتہار دیا۔اور اس میں دہلی والوں کے افسوس ناک رویہ کا اظہار کیا اور یہ بھی لکھا کہ چونکہ مولوی عبدالحق صاحب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ میں ایک گوشہ گزیں آدمی ہوں اور اس قسم کے جلسوں کو جن میں عوام کے نفاق و شقاق کا اندیشہ ہو پسند نہیں کرتا۔اور نہ حکام کی طرف سے حفظ امن کا انتظام کروا سکتا ہوں اس لئے اب ہم ان سے مخاطب نہیں ہوتے بلکہ مولوی سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہم سے بپا بندی شرائط مباحثہ کر لیں۔اس اشتہار کے بعد مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی سید نذیر حسین صاحب نے خفیہ خفیہ مباحثہ کی تیاری کر لی اور پھر خود بخو دلوگوں میں مشہور کر دیا کہ فلاں وقت اور فلاں روز فلاں جگہ مباحثہ ہو گا اور عین وقت پر حضرت صاحب کے پاس آدمی بھیجا کہ مباحثہ کے لئے تشریف لے چلئے۔حضرت صاحب نے جواب دیا کہ یہ کہاں کی دیانتداری ہے کہ خود بخود یک طرفہ طور پر بغیر فریق ثانی کی منظوری اور اطلاع کے اور بغیر شرائط کے تصفیہ پانے کے مباحثہ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور مجھے عین وقت پر اطلاع دی گئی ہے۔اور مجھے تو اس صورت میں بھی انکار نہ ہوتا اور میں مباحثہ کیلئے چلا جاتا مگر آپ کے شہر میں مخالفت کا یہ حال ہے کہ سینکڑوں آوارہ گرد بد معاش میرے مکان کے اردگر دشرارت کی نیت سے جمع رہتے ہیں اور ذمہ دار لوگ انہیں نہیں روکتے بلکہ اشتعال انگریز الفاظ کہ کہہ کر الٹا جوش دلاتے ہیں۔پس جب تک میں اپنے پیچھے اپنے مکان اور اپنے اہل وعیال کی حفاظت کا انتظام نہ کرلوں میں نہیں جاسکتا اور علاوہ ازیں ابھی تک جائے مباحثہ اور راستہ میں بھی حفظ امن کا کوئی انتظام نہیں ہے۔حضرت صاحب کے اس جواب پر جو سراسر معقول اور شریفانہ تھا دہلی والوں نے ایک طوفان بے تمیزی بر پا کر دیا اور شور کرنا شروع کیا کہ مرزا مباحثہ سے بھاگ گیا ہے اور شہر میں ایک خطرناک شور مخالفت کا پیدا ہو گیا اور جدھر جاؤ بس یہی چرچہ تھا اور ہزاروں مفسد فتنہ پرداز لوگ حضرت صاحب کے مکان پر آ آ کر گلی