سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 375
سیرت المہدی 375 حصہ دوم میں شور و پکار کرتے رہتے تھے۔اور طرح طرح کی بدزبانی اور گالی گلوچ اور طعن و تشنیع اور تمسخر و استہزاء سے کام لیتے تھے۔اور بعض شریر حملہ کر کے مکان کے اندر گھس آتے اور اپنے شور و غوغا سے آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے۔اس حالت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۷ا راکتو بر۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا جس کے اندر تمام حالات اور گذشتہ سرگذشت درج کی اور بالآخر لکھا کہ اب میں نے حفظ وامن کا انتظام کر لیا ہے اور جس تاریخ کو مولوی سید نذیر حسین پسند کریں میں ان کے ساتھ مباحثہ کرنے کیلئے حاضر ہو جاؤں گا۔اور جو فریق اس مباحثہ سے تخلف کرے اس پر خدا کی لعنت ہو۔اور آپ نے بڑے غیرت دلانے والے الفاظ استعمال کر کے مولوی نذیر حسین کو مناظرہ کیلئے ابھارا چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ ۲۰/اکتو بر ۱۸۹۱ء کو فریقین جامع مسجد دہلی میں جمع ہو کر مسئلہ حیات ممات مسیح ناصری میں بحث کریں اور یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل سن کر مولوی سید نذیر حسین صاحب مجمع عام میں خدا کی قسم کھا جائیں کہ یہ دلائل غلط ہیں اور قرآن شریف اور حدیث صحیح مرفوع متصل کی رو سے مسیح ناصری زندہ جسم عصری آسمان پر موجود ہیں اور اسی جسم کے ساتھ زمین پر نازل ہونگے۔اور پھر اگر ایک سال کے عرصہ کے اندراندرمولوی صاحب پر خدا کا کھلا کھلا عذاب نازل نہ ہو تو حضرت صاحب اپنے دعوئی میں جھوٹے سمجھے جاویں۔چنانچہ ۲۰/اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ہزارہا لوگ جامع مسجد میں جمع ہو گئے اور شہر میں ایک خطر ناک جوش پیدا ہو گیا۔بعض خدام نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ حضور لوگوں کی طبائع میں خطر ناک اشتعال ہے اور امن شکنی کا سخت اندیشہ ہے۔بہتر ہے کہ حضور تشریف نہ لے جائیں کیونکہ لوگوں کی نیت بخیر نہیں ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اب تو ہم کسی صورت میں بھی رک نہیں سکتے کیونکہ ہم نے خود دعوت دی ہے اور پیچھے رہنے والے پر لعنت بھیجی ہے پس خواہ کیسی بھی خطر ناک حالت ہے ہم خدا کے فضل اور اس کی حفاظت پر بھروسہ کر کے ضرور جائیں گے۔چنانچہ آپ نے بعض دوستوں کو مکان پر حفاظت کیلئے مقرر فرمایا اور روانہ ہو گئے اس وقت بارہ آدمی آپ کے ساتھ تھے اور آپ ان کے ساتھ گاڑیوں میں بیٹھ کر روانہ ہوئے۔جب آپ مسجد میں پہنچے تو ہزار ہا لوگوں کا مجمع تھا اور ایک عجیب طوفان بے تمیزی کا نظارہ تھا۔آپ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ لوگوں کے اس