سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 373
سیرت المہدی 373 حصہ دوم ایک فضل تھا جو اس کی تقدیر عام کے ماتحت وقوع میں آیا۔اور جسے حضرت مسیح موعود کی نکتہ شناس طبیعت نے خدا کا ایک احسان سمجھ کر اپنے اندر شکر گذاری کے جذبات پیدا کئے۔420 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ۲۶ مارچ ۱۸۹۱ء کو حضرت مسیح موعود نے اپنے دعوئی مسیحیت کا اعلانی اشتہار شائع کیا تو اس وقت آپ لدھیانہ میں مقیم تھے۔اور کئی ماہ تک وہیں مقیم رہے۔اس جگہ ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء سے لے کر ۲۹ جولائی ۱۸۹۱ ء تک آپ کا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا مباحثہ ہوا جس کی سرگذشت رسالہ الحق لدھیانہ میں شائع ہو چکی ہے۔شروع اگست میں آپ لدھیانہ سے چند دن کے لئے امرتسر تشریف لائے اور پھر واپس لدھیانہ تشریف لے گئے۔امرتسر آنے کی یہ وجہ ہوئی کہ لدھیانہ میں مخالفت کا بہت زور ہو گیا تھا اور لوگوں کے طبائع میں ایک ہیجان کی حالت پیدا ہو گئی تھی۔کیونکہ مولوی محمد حسین نے مباحثہ میں اپنی کمزوری کو محسوس کر کے لوگوں کو بہت اشتعال دلانا شروع کر دیا اور فساد کا اندیشہ تھا۔جس پر لدھیانہ کے ڈپٹی کمشنر نے مولوی محمد حسین کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لدھیانہ سے چلا جاوے اس حکم کی اطلاع جب حضرت صاحب کو پہنچی تو بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ چونکہ یہ امکان ہے کہ آپ کے متعلق بھی ایسا حکم جاری کیا گیا ہو یا جاری کر دیا جاوے اس لئے احتیاطاًالدھیانہ سے چلے جانا چاہیے چنانچہ آپ امرتسر تشریف لے آئے اور ایک چٹھی ڈپٹی کمشنر کے نام لکھی جس کے جواب میں ڈپٹی کمشنر کی چٹھی آئی کہ آپ کے متعلق کوئی ایسا حکم نہیں دیا گیا کہ آپ لدھیانہ سے چلے جاویں۔بلکہ آپ کو بمتابعت وملحوظیت قانون سرکاری لدھیانہ میں ٹھہرنے کے لئے وہی حقوق حاصل ہیں جیسے دیگر رعایا تابع قانون سر کا انگریزی کو حاصل ہیں۔المرقوم ۱۶ را گست ۱۸۹۱ ء۔اس کے بعد آپ پھر لدھیانہ تشریف لے گئے اور ایک عرصہ تک وہاں مقیم رہے اور پھر قادیان تشریف لے آئے اس کے کچھ عرصہ بعد آپ پھر لدھیانہ گئے اور وہاں سے دہلی تشریف لے گئے۔دہلی چونکہ ان دنوں میں تمام ہندوستان کا علمی مرکز سمجھا جا تا تھا اس لئے آپ کو خیال تھا کہ وہاں اتمام حجت کا اچھا موقعہ ملے گا۔اور مخالفین نے بھی وہاں مخالفت کا پور از ور ظاہر کر رکھا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہاں جا کر ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار شائع کیا