سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 32 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 32

سیرت المہدی 32 حصہ اوّل ساڈاوی دھیان رکھنا ، یعنی مرزا صاحب ہمارا بھی خیال رہے۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اس پر والد صاحب نے وہ چپاتی اس کی طرف پھینک دی جو اس کے ناک کے اوپر لگی اور لگتے ہی وہاں سے ایک خون کی نالی یہ گلی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ ساتھی بھی قادیان کا کوئی ملل تھا مگر حضرت خلیفۃ السیح الثانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہے کہ وہ کوئی نائی یا مراثی تھا چنانچہ حضرت صاحب لطیفہ کے طور پر بیان فرماتے تھے کہ ان لوگوں کو ایسے موقعہ پر بھی جنسی کی بات ہی سوجھتی ہے۔44 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہارے دادا نے قادیان کی جائیداد پر حقوق مالکانہ برقرار رکھوانے کے لئے شروع شروع میں بہت مقدمات کئے اور جتنا کشمیر کی ملازمت میں اور اس کے بعد روپیہ جمع کیا تھا اور وہ قریباً ایک لاکھ تھا سب ان مقدمات پر صرف کر دیا۔والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اس زمانے میں اتنے روپے سے سو گنے بڑی جائیداد خریدی جاسکتی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دادا صاحب کو یہ خیال تھا کہ خواہ کچھ ہو قادیان اور علاقہ کے پرانے جدی حقوق ہاتھ سے نہ جائیں اور ہم نے سنا ہے کہ دادا صاحب کہا کرتے تھے کہ قادیان کی ملکیت مجھے ایک ریاست سے اچھی ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادیان ہمارے بزرگوں کا آباد کیا ہوا ہے جو آخر عہد بابری میں ہندوستان آئے تھے۔قادیان اور کئی میل تک اس کے اردگرد کے دیہات ہمارے آباء کے پاس بطور ریاست یا جاگیر کے تھے۔رام گڑھی سکھوں کے زمانہ میں ہمارے خاندان کو بہت مصائب دیکھنے پڑے اور سخت تباہی آئی لیکن پھر راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے عہد میں ہماری جاگیر کا کچھ حصہ ہمارے آباء کو واپس مل گیا تھا۔لیکن پھر ابتداء سلطنت انگریزی میں پچھلے کئی حقوق ضبط ہو گئے اور کئی مقدمات کے بعد جن پر دادا صاحب کا زر کثیر صرف ہوا صرف قادیان اور اس کے اندر مشمولہ دو دیہات پر حقوق مالکانہ اور قادیان کے قریب کے تین دیہات پر حقوق تعلقہ داری ہمارے خاندان کے لئے تسلیم کئے گئے۔یہ حقوق اب تک قائم ہیں ہاں درمیان میں بعض اپنے ہی رشتہ داروں کی مقدمہ بازی کی وجہ سے