سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 31 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 31

سیرت المہدی 31 حصہ اوّل سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی میں انہیں دیکھنے کے لئے گئی۔واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ پھیچے کی ماں بیمار ہے اور یہ تکلیف ہے۔آپ خاموش رہے۔میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آؤ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارہ کنایہ مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں سو میں کر دیا کرتی تھی۔42 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا اور اس کا بیٹا جواب موجود ہے وہ نامرد ہے گویا اس کی اولاد آگے نہیں چلے گی (خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعد اللہ سخت معاند تھا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کرتا تھا) مگرا بھی آپ کی یہ تحریر شائع نہ ہوئی تھی۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے آپ سے عرض کیا کہ ایسا لکھنا قانون کے خلاف ہے۔اس کالڑ کا اگر مقدمہ کر دے تو پھر اس بات کا کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ وہ واقعی نامرد ہے۔حضرت صاحب پہلے نرمی کے ساتھ مناسب طریق پر جواب دیتے رہے مگر جب مولوی محمد علی صاحب نے بار بار پیش کیا اور اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے غصے کے لہجے میں فرمایا۔” جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آ جاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا“ 43 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے والد صاحب اوائل میں تعلیم کے لئے باہر گئے تو شائد دتی کی بات ہے کہ وہ ایک مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے چونکہ زاد ختم ہو گیا تھا کئی وقت فاقے گذر گئے تھے آخر کسی نے ان کو طالب علم سمجھ کر ایک چپاتی دی جو بوجہ باسی ہو جانے کے خشک ہو کر نہایت سخت ہو چکی تھی۔والد صاحب نے لے لی مگرا بھی کھائی نہ تھی کہ آپ کا ساتھی جو قادیان کا کوئی شخص تھا اور اس پر بھی اسی طرح فاقہ تھا بولا۔”مرزا جی