سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 33 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 33

سیرت المہدی 33 حصہ اوّل ہمارے تایا صاحب کے زمانہ میں قادیان کی جائداد کا بڑا حصہ مرزا اعظم بیگ لاہوری کے خاندان کے پاس چلا گیا تھا اور قریباً پینتیس سال تک اسی خاندان میں رہا لیکن اب حال میں وہ حصہ بھی خدا کے فضل سے ہم کو واپس آ گیا ہے۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ جب تمہارے تایا کے زمانہ میں قادیان کی جائداد کا بڑا حصہ مرزا اعظم بیگ کو چلا گیا تو تمہارے تایا کو سخت صدمہ ہوا جس سے وہ بیمار ہو گئے اور قریباً دوسال بعد اسی بیماری میں فوت ہوئے مگر باوجود خلاف ڈگری ہو جانے کے انہوں نے اپنی زندگی میں فریق مخالف کو قبضہ نہیں دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی مقدمہ اور وہی ڈگری ہے جس کا حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے اپنے بھائی کو روکا تھا کہ مقابلہ نہ کریں اور حق تسلیم کر لیں کیونکہ آپ کو خدا نے بتایا تھا کہ مقدمہ کا انجام خلاف ہے مگر حضرت صاحب فرماتے تھے کہ بھائی صاحب نے عذر کر دیا اور نہ مانا۔پھر جب ڈگری ہو جانے کی خبر آئی تو اس وقت حضرت صاحب اپنے حجرے میں تھے۔تایا صاحب باہر سے کانپتے ہوئے ڈگری کا پرچہ ہاتھ میں لئے اندر آئے اور حضرت صاحب کے سامنے وہ کاغذ ڈال دیا اور کہا۔”لے غلام احمد جو تو کہندا سی او ہوائی ہو گیا ائے“ یعنی لو غلام احمد جو تم کہتے تھے وہی ہو گیا ہے اور پھر غش کھا کر گر گئے والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ پھرتا یا صاحب کی وفات کے بعد حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد صاحب کو بلا کر فرمایا کہ قبضہ دے دو۔چنانچہ مرزا سلطان احمد صاحب نے ڈگری کے مطابق قبضہ دے دیا اور جائداد کا کچھ حصہ اونے پونے فروخت کر کے خرچے کا روپیہ بھی ادا کر دیا۔اس روایت میں جو خاکسار کی طرف سے یہ فقرہ درج ہوا ہے کہ ” قادیان اور اس کے اندر مشمولہ دور یہات پر حقوق مالکانہ تسلیم کئے گئے یہ درست نہیں ہے بلکہ سہو قلم سے یہ الفاظ درج ہو گئے ہیں کیونکہ حق یہ ہے کہ قادیان کے مشمولہ دو گاؤں جن کا نام قادر آباد اور احمد آباد ہے وہ دونوں دادا صاحب نے سلطنت انگریزی کے قیام کے بعد آباد کئے تھے اس لئے الفاظ اور اس کے اندر مشمولہ دو دیہات حذف سمجھے جانے چاہئیں۔) 45 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد مرزا