سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 365
سیرت المہدی 365 حصہ دوم السلام کی زبان مبارک پر بعض فقرے کثرت کے ساتھ رہتے تھے۔مثلاً آپ اپنی گفتگو میں اکثر فرمایا کرتے تھے دست در کار دل بایار، خداداری چه غم داری ، الاعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِيٍّ ، آنچنان صیقل زدند آئینه نماند، گر حفظ مراتب نہ کی زندیقی، مَا لَا يُدْرَكُ كُلُّهُ لَا يُتَرَكُ كُلُّهُ ، اَلطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَبٌ ، ب تا جیست از لطف الهی بنه بر سر برو هر جا کہ خواہی 410 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری کتابوں کو کم از کم تین دفعہ نہیں پڑھتا اس میں ایک قسم کا کبر پایا جاتا ہے۔411 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک بچہ نے گھر میں ایک چھپکلی ماری اور پھر ا سے مذا قأمولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی چھوٹی اہلیہ پر پھینک دیا جس پر مارے ڈر کے ان کی چھینیں نکل گئیں۔اور چونکہ مسجد کا قرب تھا ان کی آواز مسجد میں بھی سنائی دی۔مولوی عبد الکریم صاحب جب گھر آئے تو انہوں نے غیرت کے جوش میں اپنی بیوی کو بہت کچھ سخت سست کہا حتی کہ انکی یہ غصہ کی آواز حضرت مسیح موعود نے نیچے اپنے مکان میں بھی سن لی۔چنانچہ اس واقعہ کے متعلق اسی شب حضرت صاحب کو یہ الہام ہوا کہ یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے ، مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو لطیفہ یہ ہوا کہ صبح مولوی صاحب مرحوم تو اپنی اس بات پر شرمندہ تھے اور لوگ انہیں مبارک بادیں دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مسلمانوں کا لیڈ ررکھا ہے۔412 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شہادت کیلئے ملتان تشریف لے گئے تو راستہ میں لاہور بھی اترے اور وہاں جب آپکو یہ علم ہوا کہ مفتی محمد صادق صاحب بیمار ہیں تو آپ ان کی عیادت کیلئے انکے مکان پر تشریف لے گئے۔اور ان کو دیکھ کر حدیث کے یہ الفاظ فرمائے کہ لَا بَأْسَ طَهُورًا إِنْشَاءَ اللَّهُ -