سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 364 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 364

سیرت المہدی 364 حصہ دوم گھونگھٹ یا پردہ کا اہتمام کرنے لگتی ہے۔اور ان کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کی آنکھیں ہر وقت بیچی اور نیم بند رہتی ہیں اور وہ اپنے کام میں بالکل منہمک رہتے ہیں ان کے سامنے سے جاتے ہوئے کسی خاص پردہ کی ضرورت نہیں۔نیز مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ باہر مردوں میں بھی حضرت صاحب کی یہی عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں اور ادھر ادھر آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی آپ کو عادت نہ تھی۔بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سیر میں جاتے ہوئے آپ کسی خادم کا ذکر غائب کے صیغہ میں فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ جارہا ہوتا تھا اور پھر کسی کے جتلانے پر آپ کو پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے۔6407 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب معہ چند خدام کے فوٹو کھینچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ور نہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔408 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے گناہوں پر غالب آنے کا مادہ رکھ دیا ہے پس خواہ انسان اپنی بداعمالیوں سے کیسا ہی گندہ ہو گیا ہو وہ جب بھی نیکی کی طرف مائل ہونا چاہے گا اس کی نیک فطرت اس کے گناہوں پر غالب آجائے گی اور اس کی مثال اس طرح پر سمجھایا کرتے تھے کہ جیسے پانی کے اندر یہ طبعی خاصہ ہے کہ وہ آگ کو بجھاتا ہے۔پس خواہ پانی خود کتنا ہی گرم ہو جاوے حتی کہ وہ جلانے میں آگ کی طرح ہو جاوے لیکن پھر بھی آگ کو ٹھنڈا کر دینے کی خاصیت اس کے اندر قائم رہے گی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی لطیف نکتہ ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے عیسائی اور ہندو مذہب تباہ ہو گئے اور لاکھوں مسلمان کہلانے والے انسان بھی مایوسی کا شکار ہو گئے۔409 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ