سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 366
سیرت المہدی 366 حصہ دوم یعنی کوئی فکر کی بات نہیں انشاء اللہ خیر ہو جائے گی اور پھر آپ نے مفتی صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ بیمار کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ، آپ ہمارے لئے دعا کریں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ملتان کا یہ سفر حضرت صاحب نے ۱۸۹۷ء میں کیا تھا۔413 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں خوب تیرنا آتا ہے اور فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ اوائل عمر میں ڈھاب کے اندر ڈوبنے لگا تھا اور ایک بوڑھے عمر رسیدہ آدمی نے مجھے پانی سے نکالا تھا۔وہ شخص کوئی اجنبی آدمی تھا جسے میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ بعد میں دیکھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ گھر کے بچوں نے چندہ جمع کر کے قادیان کی ڈھاب کیلئے ایک کشتی جہلم سے منگوائی تھی اور حضرت صاحب نے بھی اس چندہ میں ایک رقم عنایت کی تھی۔6414 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک ابتدائی زمانہ میں احباب کے جمع ہونے کی وجہ سے ایک جلسہ کی سی صورت ہو گئی اور لوگوں نے خواہش کی کہ حضرت صاحب کچھ تقریر فرما ئیں۔جب آپ تقریر کیلئے باہر تشریف لے جانے لگے تو فرمانے لگے کہ مجھے تو تقریر کرنی نہیں آتی میں جا کر کیا کہوں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے جو یہ کہا تھا کہ لا يَنطَلِقُ لِسَانِي (الشعراء: ۱۴) اس کا بھی یہی مطلب تھا کہ میں تقریر کرنا نہیں جانتا۔مگر خدا جس کو کسی منصب پر کھڑا کرتا ہے اس کو اس کا اہل پا کر ایسا کرتا ہے اور اگر اس میں کوئی کمی بھی ہوتی ہے تو اسے خود پورا فرما دیتا ہے۔چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربار میں پہنچے تو آپ کی زبان ایسی چلی کہ حضرت ہارون جن کو وہ اپنی جگہ منصب نبوت کے لئے پیش کر رہے تھے۔گویا بالکل ہی پس پشت ہو گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا نے وہ تقریر کی طاقت دی کہ دنیا داروں نے آپ کی سحر بیانی کو دیکھ کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس شخص کی زبان میں جادو ہے۔415 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی حصہ دوم میں لکھا ہے کہ قادیان کے پاس گاؤں کا ایک سکھ جاٹ جو عرصہ ہوا فوت ہو گیا ہے اور وہ بہت معمر آدمی تھا مجھ سے