سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 356
سیرت المہدی 356 حصہ دوم مک<mark>ان</mark>وں کی چھتوں اور درختوں کی شاخوں پر لوگ <mark>اس</mark> طرح چڑھے بیٹھے تھے کہ چھتوں اور درختوں کے گرنے کا <mark>ان</mark>دیشہ ہو گیا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک <mark>ان</mark>گریز اور لیڈی فوٹو کا کیمرہ ہاتھ میں لئے ہوئے ہجوم میں گھرے ہوئے کھڑے تھے کہ کوئی موقع م<mark>لے</mark> تو <mark>حضرت</mark> <mark>صاحب</mark> کا فوٹو <mark>لے</mark> لیں۔مگر کوئی موقعہ نہ ملتا تھا اور میں نے سنا تھا کہ وہ پچھ<mark>لے</mark> کئی سٹیشنوں سے فوٹو کی کوشش <mark>کرتے</mark> چ<mark>لے</mark> آرہے تھے۔مگر کوئی موقع نہیں ملا۔جب <mark>حضرت</mark> <mark>مسیح</mark> <mark>موعود</mark> <mark>علی</mark>ہ <mark>السلام</mark> ریل سے اتر کر <mark>اس</mark> کوٹھی کی طرف رو<mark>ان</mark>ہ ہوئے جو سردار ہری سنگھ رئیس اعظم جہلم نے آپ کے قیام کے لئے پیش کی تھی تو ر<mark>اس</mark>تہ میں تمام لوگ ہی لوگ تھے اور آپ کی گاڑی بصدر مشکل کوٹھی تک پہنچی۔جب دوسرے دن آپ عدالت میں <mark>تشریف</mark> <mark>لے</mark> گئے تو مجسٹریٹ ڈپٹی سنسار چند آپ کی تعظیم کے لئے سروقد کھڑا ہو گیا اور <mark>اس</mark> وقت وہاں لوگوں کا <mark>اس</mark> قدر ہجوم تھا کہ جگہ نہیں ملتی تھی۔بعض لوگ عدالت کے کمرے میں الماریوں کے اوپر اور بعض مجسٹریٹ کے چبوترے پر چڑھے ہوئے تھے۔جہلم میں اتنے لوگوں نے <mark>حضرت</mark> <mark>صاحب</mark> کی بیعت کی کہ ہمارے وہم و خیال میں بھی نہ تھا۔خاکسار عرض <mark>کرتا</mark> ہے کہ اخبار البدر بابت آخر جنوری ۱۹۰۳ء میں سفر جہلم کے حالات مفصل درج ہیں۔<mark>اس</mark> میں لکھا ہے کہ <mark>حضرت</mark> <mark>مسیح</mark> <mark>موعود</mark> ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء کو قادی<mark>ان</mark> سے رو<mark>ان</mark>ہ ہوئے تھے اور ۱۶ کی صبح کو جہلم پہنچے اور ۱۹؍ جنوری کو واپس قادی<mark>ان</mark> <mark>تشریف</mark> لائے۔ر<mark>اس</mark>تہ میں کچھ دیر لاہور میں بھی قیام فرمایا۔<mark>اس</mark> سفر میں کم و بیش ایک ہزار آدمیوں نے بیعت کی۔ر<mark>اس</mark>تہ کے سٹیشنوں پر بھی لوگوں کا غیر معمولی ہجوم ہوتا تھا۔چن<mark>ان</mark>چہ لاہور کے غیر احمدی اخبار ”پنجہ فولاد کی مندرجہ ذیل عبارت <mark>اس</mark> پر شاہد ہے۔جہلم کی واپسی پر مرزا غلام احمد <mark>صاحب</mark> قادی<mark>ان</mark>ی وزیر آباد پہنچے۔باوجود یکہ نہ <mark>ان</mark>ہوں نے شہر میں آنا تھا اور نہ آنے کی کوئی اطلاع دی تھی اور صرف سٹیشن پر ہی چند منٹوں کا قیام تھا۔پھر بھی ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر خلقت کا وہ ہجوم تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ ملتی تھی۔اگر سٹیشن م<mark>اس</mark>ٹر <mark>صاحب</mark> جو نہایت خلیق اور ملنسار ہیں ، خاص طور پر <mark>اپنے</mark> حسن <mark>ان</mark>تظام سے کام نہ لیتے تو کچھ شبہ نہیں کہ اکثر آدمیوں کے کچل ج<mark>ان</mark>ے اور یقیناً کئی ایک کے کٹ ج<mark>ان</mark>ے کا <mark>ان</mark>دیشہ تھا۔مرزا <mark>صاحب</mark> کے دیکھنے کیلئے ہندو اور مسلم<mark>ان</mark> یکساں شوق سے موجود تھے۔دیکھوالحکم بابت ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء۔