سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 355
سیرت المہدی 355 حصہ دوم تحفہ گولڑویہ کے متعلق تھا نہ کہ تریاق القلوب کے متعلق۔اور حضرت صاحب نے جو کسی جگہ اپنی بعد کی تحریر میں تریاق القلوب لکھا ہے تو اس کی وجہ نسیان یا سہو قلم ہے کیونکہ خودحضرت صاحب کا مصدقہ بیان جو اسی وقت تحریر میں آکر مسل کے ساتھ شامل ہو گیا تھا اس کو غلط ثابت کر رہا ہے اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اس سوال و جواب کا مضمون بھی اس بات کو قطعی طور پر ثابت کر رہا ہے کہ اس وقت تحفہ گولڑویہ پیش کی گئی تھی نہ کہ تریاق القلوب۔کیونکہ اس سوال و جواب میں جو بچے اور جھوٹے ہیروں کے شناخت کئے جانے کے متعلق ذکر ہے وہ صرف تحفہ گولڑویہ کے اندر ہے اور تریاق القلوب میں قطعاً ایسا کوئی مضمون درج نہیں ہے۔چنانچہ جن صفحات کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مطابق ہر دو کتب کا مطالعہ کر کے اس بات کی صداقت کا فیصلہ آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی فضل دین صاحب کی اس روایت سے مولوی شیر علی صاحب کی اس روایت کی تصدیق ہو گئی جو حصہ اول میں درج ہو چکی ہے اور جس میں اس موقعہ پر تحفہ گولڑویہ کا پیش کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔393 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں حیات محمد صاحب پنشنز ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین کے مقدمہ میں جہلم تشریف لے گئے۔تو میں ان دنوں میں لائن پولیس میں تھا اور میں نے حضرت صاحب کی تشریف آوری پر تین دن کی رخصت حاصل کر لی تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گاڑی جہلم کے سٹیشن پر پہنچی تو سٹیشن پر لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ بس جہاں تک نظر جاتی تھی آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے۔اور مرد ، عورت، بچے، جوان، بوڑھے پھر ہندو مسلمان، سکھ، عیسائی، یورپین ، ہر مذہب و قوم کے لوگ موجود تھے اور اس قدر گھمسان تھا کہ پولیس اور سٹیشن کا عملہ با وجود قبل از وقت خاص انتظام کرنے کے قطعاً کوئی انتظام قائم نہ رکھ سکتے تھے۔اور اس بات کا سخت اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کوئی شخص ریل کے نیچے آکرکٹ نہ جائے۔یا لوگوں کے ہجوم میں دب کر کوئی بچہ یا عورت یا کمزور آدمی ہلاک نہ ہو جاوے۔لوگوں کا ہجوم صرف سٹیشن تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ سٹیشن سے باہر بھی دور دراز فاصلہ تک ایک سا ہجوم چلا جاتا تھا اور جس جگہ بھی کسی کو موقعہ ملتا تھا وہ وہاں کھڑا ہو جاتا تھا۔حتی کہ