سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 352
سیرت المہدی 352 حصہ دوم علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اب خواجہ صاحب کو لکھ دیں کہ آپ تو کہتے تھے کہ وہ الفاظ کاٹ دیں۔لیکن اب تو ہمیں اور بھی لکھنا پڑا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ خواجہ صاحب نے از راہ ہمدردی اپنی رائے پر اصرار کیا ہو گا کہ مبادا یہ بات شماتت اعداء کا موجب نہ ہو جائے۔مگر ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے صرف ایک قانون دان کی حیثیت میں غور کیا۔اور اس بات کو نہیں سوچا کہ خدائی تصرفات سب طاقتوں پر غالب ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اب سعد اللہ کا لڑکا بھی لا ولد مر چکا ہے۔391 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن حضرت صاحب کی مجلس میں عورتوں کے لباس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ایسا تنگ پاجامہ جو بالکل بدن کے ساتھ لگا ہوا ہوا اچھا نہیں ہوتا۔کیونکہ اس سے عورت کے بدن کا نقشہ ظاہر ہو جاتا ہے۔جوستر کے منافی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ صوبہ سرحد میں اور اس کے اثر کے ماتحت پنجاب میں بھی عورتوں کا عام لباس شلوار ہے۔لیکن ہندوستان میں تنگ پاجامہ کا دستور ہے۔اور ہندوستان کے اثر کے ماتحت پنجاب کے بعض خاندانوں میں بھی تنگ پاجامے کا رواج قائم ہو گیا ہے۔چنانچہ ہمارے گھروں میں بھی بوجہ حضرت والدہ صاحبہ کے اثر کے جو دتی کی ہیں ، زیادہ تر تنگ پاجامے کا رواج ہے۔لیکن شلوار بھی استعمال ہوتی رہتی ہے۔مگر اس میں شک نہیں کہ ستر کے نکتہ نگاہ سے تنگ پاجامہ ضرور ایک حد تک قابل اعتراض ہے اور شلوار کا مقابلہ نہیں کرتا۔ہاں زینت کے لحاظ سے دونوں اپنی اپنی جگہ اچھے ہیں یعنی بعض بدنوں پر تنگ پاجامہ سجتا ہے اور بعض پر شلوار۔اندریں حالات اگر بحیثیت مجموعی شلوار کو رواج دیا جاوے تو بہتر ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ عورت نے تو اپنے گھر کی چار دیواری میں ہی رہنا ہے اور اگر باہر بھی جانا ہے تو عورتوں میں ہی ملنا جلنا ہے تو اس صورت میں تنگ پاجامہ اگر ایک حد تک ستر کے خلاف بھی ہو تو قابل اعتراض نہیں لیکن یہ خیال درست نہیں کیونکہ اول تو اس قسم کا ستر شریعت نے عورتوں کا خود عورتوں سے بھی رکھا ہے اور اپنے بدن کے حسن کو بیجا طور پر بر ملا ظاہر کرنے سے مستورات میں بھی منع فرمایا ہے علاوہ ازیں گھروں میں علاوہ خاوند کے بعض ایسے مردوں کا بھی آنا جانا ہوتا ہے جن سے مستورات کا پردہ تو نہیں ہوتالیکن یہ بھی نہایت معیوب بلکہ ناجائز