سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 353
سیرت المہدی 353 حصہ دوم ہوتا ہے کہ عورت ان کے سامنے اپنے بدن کے نقشہ اور ساخت کو بر ملا ظاہر کرے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایسے تنگ پاجامہ کو جس سے بدن کا نقشہ اور ساخت ظاہر ہو جاوے نا پسند کرنا نہایت حکیمانہ دانشمندی پر مبنی اور عین شریعت اسلامی کے منشاء کے مطابق ہے۔ہاں خاوند کے سامنے عورت بے شک جس قسم کا لباس وہ چاہے یا اس کا خاوند پسند کرے پہنے۔اس میں حرج نہیں۔لیکن ایسے موقعوں پر جبکہ گھر کے دوسرے مردوں کے سامنے آنا جانا ہو یا غیر عورتوں سے ملنا ہو، شلوار ہی بہتر معلوم ہوتی ہے۔ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک تنگ پاجامہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو بدن کے ساتھ بالکل پیوست نہیں ہوتا۔بلکہ کسی قدر ڈھیلا رہتا ہے اور اس سے عورت کے بدن کی ساخت پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی۔ایسا تنگ پاجامہ گوشلوار کا مقابلہ نہ کر سکے مگر چنداں قابل اعتراض بھی نہیں اور ہمارے گھروں میں زیادہ تر اسی قسم کے پاجامہ کا رواج ہے۔قابل اعتراض وہ پاجامہ ہے کہ جو بہت تنگ ہو یا جسے عورت ٹانک کر اپنے بدن کے ساتھ پیوست کر لے۔واللہ اعلم۔392 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی فضل دین صاحب وکیل نے مجھ سے بیان کیا کہ مقدمہ مولوی کرم دین جہلمی میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ سوال ہوا تھا کہ کیا واقعی آپ کی وہی شان ہے جو آپ نے اپنی فلاں کتاب میں لکھی ہے؟ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ”حقیقۃ الوحی“ میں لکھا ہے کہ یہ سوال تریاق القلوب کے متعلق تھا۔لیکن دراصل یہ درست نہیں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کتاب کے نام کے متعلق نسیان ہو گیا ہے یا سہو ابلا محسوس کئے تریاق القلوب کا نام لکھا گیا ہے۔کیونکہ حق یہ ہے کہ عدالت میں تحفہ گولڑویہ پیش کی گئی تھی اور تحفہ گولڑو یہ ہی کی ایک عبارت پیش کر کے یہ سوال کیا گیا تھا۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ سرکاری عدالت میں جو اس مقدمہ کی مسل محفوظ ہے اس میں تحفہ گولڑویہ کا نام درج ہے اور یہ صاف طور پر لکھا ہے کہ تحفہ گولڑویہ کی ایک عبارت کے متعلق یہ سوال تھا۔چنانچہ مسل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان آپ کے اپنے الفاظ میں اس طرح پر درج ہے:۔تحفہ گولڑویہ میری تصنیف ہے۔یکم ستمبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی۔پیر مہر علی کے مقابلہ پرلکھی ہے۔