سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 351
سیرت المہدی 351 حصہ دوم کڑوا پھل اور بد ذائقہ اثر ہے اسے دور کرنے کے لئے ایک پیوند کی ضرورت ہے اور وہ پیوند بیعت کامل ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کڑوے ترش اور بدذائقہ پھل دار درخت کو اگر میٹھا اور لذیذ بنانا ہوتو پھر کسی عمدہ خوش ذائقہ شیریں پھل دار درخت کے ساتھ اسے پیوند کرتے ہیں اور اس طرح اس کے بدذائقہ اور کڑوے پھل خود بخود شیریں اور عمدہ ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب کسی انسان کا نفسانی پھل خراب گندہ اور بدمزہ ہو تو ایک پاک نفس کی بیعت یعنی اس کے روحانی تعلق اور توجہ اور دُعا وغیرہ سے پیوند ہوکر یہ بھی حسب استعداد پاک نفس اور مطہر وظل انبیاء ہو جاتا ہے۔اور بغیر اس بیعت اور تاثیر روحانی کے اس کا روح محروم رہتا ہے نیز مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے بیعت کے فوائد پر تقریر فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیا یہ فائدہ بیعت کا کوئی کم ہے کہ انسان کے پہلے سارے گناہ بخشے جاتے ہیں۔390 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حقیقہ الوحی طبع ہو رہی تھی۔ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ جو حقیقۃ الوحی میں سعد اللہ لدھیانوی کے بیٹے کے نامرد ہونے کے متعلق تحدی کی گئی ہے اس کو کاٹ دیا جاوے۔کیونکہ اگر اس نے مقدمہ کر دیا تو نامرد ثابت کرنا مشکل ہوگا۔مگر حضرت صاحب نے انکار کیا۔خواجہ صاحب نے پھر عرض کیا کہ اس سے مشکلات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ خواجہ صاحب اگر اس نے مقدمہ کیا تو ہم آپ کو وکیل نہیں کریں گے۔اس کے کچھ دن بعد جب خواجہ صاحب لاہور چلے گئے تو مولوی محمد علی صاحب نے سیر کے وقت حضرت صاحب سے عرض کیا کہ خواجہ صاحب کا خط آیا ہے کہ مجھے سعد اللہ کے متعلق اتنا فکر ہے کہ بعض اوقات رات کو نیند نہیں آتی یا تو وہ مر جاوے یا حضرت صاحب اس کے بیٹے کے نامرد ہونے کے الفاظ اپنی کتاب سے کاٹ دیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ سعد اللہ کو جلد ہی موت دے دے۔اس کے چند دن بعد تار آیا کہ سعد اللہ لدھیانوی مر گیا ہے اور حضرت صاحب نے سیر میں اس کا ذکر کیا اور مولوی محمد