سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 332 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 332

سیرت المہدی 332 حصہ دوم میں جانا مرض کے پھیلانے کا موجب ہو سکتا ہے اس طرح کھلے میدانوں میں جا کر ڈیرے لگانا نہیں ہوسکتا بلکہ ایسا کرنا تو سراسر مفید ہے اور اس سے مرض کو بہت حد تک روکا جاسکتا ہے چنانچہ جہاں شریعت نے وبا زدہ علاقہ سے نکل کر دوسری آبادی میں جانے کو روکا ہے وہاں ارد گرد کے گھلے میدانوں میں پھیل جانے کو مستحسن قرار دیا ہے اور اس کی سفارش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خاص استثنائی معاملہ تھا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی تھی کہ تیری چار دیواری (جسمانی اور روحانی) کے اندر کوئی شخص طاعون سے نہیں مرے گا کیونکہ ایسے تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت میں ہو نگے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ قادیان میں کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں طاعون آیا اور بعض اوقات ایک حد تک بیماری کا زور بھی ہوا۔مگر آپ کے مکان میں کسی شخص کا اس وبا سے مرنا تو در کنار کبھی کوئی چوہا بھی اس بیماری سے نہیں مرا حالانکہ آپ کے مکان کے چاروں طرف طاعون کا اثر پہنچا اور بالکل ساتھ والے متصل مکانات میں بھی طاعون کے کیس ہوئے مگر آپ کا مکان خدا کے فضل اور اس کے وعدہ کے مطابق بالکل محفوظ رہا۔اسی طرح گو آپ کے روحانی مکان کی چاردیواری کی اصل تعیین کا علم صرف خدا کو ہے اور صرف بیعت اور ظاہری حالت سے اس کے متعلق کوئی یقینی قیاس نہیں ہو سکتا لیکن آپ کے مخلص اور یک رنگ خادم بالعموم اس بیماری کے اثر سے نمایاں طور پر محفوظ رہے اور خدائی وعدہ کے مطابق طاعون کی بیماری ایک خارق عادت طور پر سلسلہ احمدیہ کی اشاعت اور ترقی کا موجب ہوئی۔چنانچہ اگر اشاعت سلسلہ کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جاوے تو صاف نظر آتا ہے کہ جس سرعت کیساتھ طاعون کے زمانہ میں سلسلہ کی ترقی ہوئی ہے ایسی سرعت اس وقت تک اور کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔نہ طاعون کے دور دورہ سے قبل اور نہ اس کے بعد۔چنا نچہ حضرت خلیفہ اسیح ثانی بیان فرماتے تھے کہ جن دنوں میں اس بیماری کا پنجاب میں زور تھا ان دنوں میں بعض اوقات پانچ پانچ سو آدمیوں کی بیعت کے خطوط ایک ایک دن میں حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچے تھے۔اور یہ سب کچھ اس خدائی پیش گوئی کے مطابق ظہور میں آیا جو پیش از وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے شائع کی گئی تھی۔