سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 331
سیرت المہدی 331 حصہ دوم دل میں شعلہ زن کی ہے جس کی لپٹوں سے تو نے میرے دل میں غیر کی محبت کو جلا کر خاک کر دیا ہے اب ذرا اسی آگ سے میرے ظاہر کو بھی روشن فرما۔اور اے میرے مولا ! میری اس تاریک و تاررات کو دن سے بدل دے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض حالات میں خود انسان کا اپنے منہ سے نکلا ہوا کلام بھی اس کے صدق دعوئی پر ایک یقینی شہادت ہوتا ہے۔358 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری حاکم علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اپریل ۱۹۰۵ء میں بڑا زلزلہ آیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے باغ میں تشریف لیجا کر ڈیرہ لگا لیا تھا اور اور بھی اکثر دوست باغ میں چلے گئے تھے ان دنوں میں میں بھی اپنے اہل وعیال سمیت قادیان آیا ہوا تھا۔حضرت صاحب باغ میں تشریف لے گئے تو اس کے بعد قادیان میں طاعون پھیل گیا۔میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور یہاں باغ میں تشریف رکھتے ہیں اور اکثر دوست بھی یہیں آگئے ہیں اور سب نے یہاں کسی نہ کسی طرح اپنی رہائش کا انتظام کر لیا ہے مگر میرے پاس یہاں نہ کوئی خیمہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا زائد کپڑا ہے جس کے ساتھ چھپر وغیرہ تان سکوں اور نہ کوئی اور انتظام کی صورت ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہم تو یہاں زلزلہ کی وجہ سے آئے تھے۔لیکن اب قصبہ میں طاعون پھیلا ہوا ہے اور چونکہ ہم کواللہ تعالیٰ اس حالت سے قبل یہاں لے آیا تھا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کسی وجہ سے منشاء ہے کہ ہم فی الحال یہیں پر قیام کریں ورنہ ہمیں اور کوئی خیال نہیں ہے۔آپ شہر میں ہمارے مکان میں چلیں جائیں۔اس سے زیادہ محفوظ جگہ اور کوئی نہیں۔چنانچہ میں حضور کے مکان میں آ گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ شریعت کا ایک حکم ہے کہ جس جگہ طاعون یا کوئی اور اسی قسم کی وبائی بیماری پھیلی ہوئی ہو وہاں نہیں جانا چاہیے اور نہ ایسی جگہ کے باشندوں کو وہاں سے نکل کر کسی دوسری بستی میں جانا چاہیے کیونکہ اس طرح و با کے زیادہ پھیل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ جس جگہ طاعون کا زور ہو وہاں سے نکل کر ارد گرد کے کھلے میدانوں میں بھی جا کر ڈیرہ لگانا منع ہے۔کیونکہ جس طرح طاعون زدہ علاقے سے نکل کر کسی دوسری آبادی