سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 325 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 325

سیرت المہدی 325 حصہ دوم جانے سے پہلے حضرت صاحب کی ملاقات کیلئے قادیان کی طرف آیا مگر جب بٹالہ پہنچا تو اتفاقاً مجھے ایک شخص نے اطلاع دی کہ حضرت مرزا صاحب تو یہیں بٹالہ میں ہیں۔چنانچہ میں حضرت کی ملاقات کے لئے گیا۔اس وقت آپ مولوی محمد حسین بٹالوی کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔میں جب گیا تو آپ باہر سیر سے واپس مکان کو تشریف لا رہے تھے چنانچہ میں حضور سے ملا اور حضور نے مجھ سے سفر کے حالات دریافت فرمائے جو میں نے عرض کئے اور پھر میں بٹالہ سے ہی واپس وطن چلا گیا۔اس سفر میں نصیر آباد میں جو اجمیر کی طرف ایک جگہ ہے مجھے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو حضرت صاحب کے بہت معتقد تھے اور حضرت کے ساتھ خط و کتابت رکھتے تھے۔ان لوگوں نے مجھے اپنے پاس مستقل طور پر ٹھہرانا چاہا اور میرے لئے ایک معقول صورت گزارے کی بھی پیش کی لیکن مجھے شرح صدر نہ ہوا۔بعد میں جب حضرت صاحب نے مسیح و مہدی ہونے کا دعوی کیا تو یہ لوگ مرتد ہو گئے اور تب مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ مجھے وہاں ٹھہرنے کے لئے کیوں شرح صدر نہیں ہوا تھا۔اگر میں وہاں ٹھہر جاتا تو ممکن ہے خود بھی کسی ابتلا میں پڑ جاتا۔خیر اس کے بعد کچھ عرصہ گذرا اور میں قادیان نہ آیا۔اسی دوران میں سلسلہ بیعت بھی شروع ہو گیا اور میسحیت کا دعوی بھی ہو گیا۔لیکن گومیں بدستور معتقد ر ہا اور کبھی مخالفوں کی مخالفانہ باتوں کا میرے دل پر اثر نہیں ہوا کیونکہ میں خود اپنی آنکھوں سے حضرت صاحب کو دیکھ چکا تھا لیکن میں بیعت سے رکا رہا۔اس کے بعد ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے مجھ سے تحریک فرمائی کہ بیعت میں داخل ہو جانا چاہیے۔میں نے عرض کیا کہ مجھے ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہے اور میں دل سے سچا سمجھتا ہوں لیکن اتنا بڑا دعویٰ بھی ہو اور پھر میں اثر سے محروم رہوں اور اپنے اندر وہ بات نہ پاؤں جو اہل اللہ کی صحبت میں سنی جاتی ہے تو پھر مجھے کیا فائدہ ہوا۔یہ سن کر حضرت صاحب نے فرمایا ایسی صورت میں آپ کو واقعی بیعت میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ہاں آپ کچھ عرصہ میرے پاس قیام کریں۔پھر اگر تسلی و تشفی ہو تو آپ کو اختیار ہے۔چنانچہ میں کچھ عرصہ یہاں ٹھہرا اور پھر بیعت سے مشرف ہو کر چلا گیا۔جب میں نے بیعت کی درخواست کی تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ کیا آپ کو اطمینان ہو گیا ہے؟ میں نے عرض