سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 326 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 326

سیرت المہدی 326 حصہ دوم کیا کہ حضور آپ کی صداقت کے متعلق تو مجھے کبھی بھی شک نہیں ہوا ہاں ایک اور خلش تھی سو وہ بھی بڑی حد تک خدا نے دور فرما دی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے مجھ سے یہ بیان کیا تھا کہ بعض لوگوں نے ان کے سامنے بھی بعض اوقات۔۔۔۔حضرت صاحب کے متعلق اسی قسم کے خیال کا اظہار کیا تھا کہ آپ کی صداقت کے دلائل تو لا جواب ہیں اور آپ کی بزرگی بھی اظهر من الله من الشمس ہے۔لیکن جو اثر اہل اللہ کی صحبت کا سُنا جاتا ہے وہ محسوس نہیں ہوتا۔چونکہ ممکن ہے اسی قسم کے خیالات بعض اور لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوئے ہوں اس لئے اپنے علم کے مطابق خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خیال دو وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے انبیاء ومرسلین کے زمانہ میں بعض لوگوں کے اندر پیدا ہوتا چلا آیا ہے۔دراصل اگر غور سے دیکھا جاوے۔تو انبیاء کے متعلق لوگوں کے چار گروہ ہو جاتے ہیں۔اول وہ منکرین جو نہ انبیاء کے دعوی کی صداقت کو مانتے ہیں۔اور نہ ان کی ذاتی بزرگی اور روحانی اثر کے قائل ہوتے ہیں۔دوسرے وہ منکرین جو بوجہ میل ملاقات اور ذاتی تعلقات کے انبیاء کی بزرگی اور ان کے روحانی اثر کے تو ایک حد تک قائل ہوتے ہیں لیکن پرانے رسمی عقائد کی بنا پر دعوی کی صداقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے منکر رہتے ہیں۔تیسرے وہ مصدقین اور ماننے والے جن پر انبیاء کے دعوی کی صداقت بھی روشن وظاہر ہوتی ہے اور ان کے روحانی اثر کو بھی وہ علی قدر مراتب محسوس کرتے اور اس سے متمتع ہوتے ہیں اور چوتھے وہ مصدقین جو ان کے دعوی کی صداقت کو تو دل سے تسلیم کرتے ہیں اور عمومی رنگ میں ان کی بزرگی کو بھی مانتے ہیں اور اس لئے بالعموم ان کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں لیکن اپنے اندر کوئی روحانی اثر محسوس نہیں کرتے اور اسی لئے اس جہت سے کچھ شکوک میں مبتلا رہتے ہیں۔اس جگہ ہمیں چوتھے گروہ سے کام ہے۔جو صداقت کا تو قائل ہوتا ہے اور بزرگی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔لیکن اپنے اندر روحانی اثر جیسا کہ چاہتا ہے محسوس نہیں کرتا۔سو جاننا چاہیے کہ یہ حالت انسان کی دو وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اول تو یہ ہے کہ بعض اوقات اپنی غفلتوں اور کمزوریوں کی وجہ سے انسانی روح کے وہ دروازے اور کھڑکیاں جن میں سے کسی بیرونی روح کا اثر ان تک پہنچ سکتا ہے بند ہو جاتی ہیں اور اس لئے وہ