سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 324 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 324

سیرت المہدی 324 حصہ دوم پڑھ 355 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی قطب الدین صاحب طبیب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلی دفعہ لدھیانہ تشریف لے گئے تھے۔اس وقت میں لدھیانہ میں ہی تھا اور ڑھا کرتا تھا۔مجھے حضور کے آنے کی خبر ہوئی تو میں بھی حضور کو دیکھنے کے لئے سٹیشن پر گیا تھا۔جہاں میر عباس علی اور قاضی خواجہ علی صاحب اور نواب علی محمد صاحب آپ کے استقبال کیلئے گئے ہوئے تھے۔چنانچہ میں نے پہلی دفعہ حضرت صاحب کے ساتھ ٹیشن لدھیانہ پر ہی ملاقات کی اور پھر اس کے بعد کئی دفعہ حضور کے جائے قیام پر بھی حاضر ہوتا رہا۔اور میں نے جب پہلی دفعہ حضرت صاحب کو دیکھا تو میرے دل پر ایسا اثر ہوا کہ گویا میراجسم اندر سے بالکل پکھل گیا ہے اور قریب تھا کہ میں بیہوش ہو کر گر جاتا مگر سنبھلا رہا۔پھر اس کے بعد میں حضرت صاحب کی ملاقات کے لئے قادیان بھی آتا رہا۔اس وقت تک ابھی صرف مجددیت کا دعویٰ تھا اور بیعت کا سلسلہ بھی شروع نہ ہوا تھا۔اور جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو اس وقت مسجد مبارک کی تعمیر شروع تھی اور جس دن حضرت صاحب کے کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کا واقعہ ہوا اس دن بھی میں قادیان میں حضرت کی خدمت میں حاضر تھا۔356 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی قطب الدین صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سلسلہ بیعت سے قبل جب صرف مجددیت کا دعوی تھا۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میں حضور کو صدق دل سے سچا سمجھتا ہوں اور مجھے قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جس رنگ کا اثر اہل اللہ کی صحبت میں سنا جاتا ہے وہ میں حضور کی صحبت میں بیٹھ کر اپنے اندر نہیں پاتا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ملک کا ایک چکر لگا ئیں اور سب دیکھ بھال کر دیکھیں کہ جس قسم کے اہل اللہ آپ تلاش کرتے ہیں اور جواثر آپ چاہتے ہیں وہ دنیا میں کہیں موجود بھی ہے یا نہیں یا یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسی غرض سے تمام ہندوستان کا ایک دورہ کیا اور سب مشہور مقامات مثلاً کراچی، اجمیر، بمبئی ، حیدر آباد دکن، کلکتہ وغیرہ میں گیا اور مختلف لوگوں سے ملا اور پھر سب جگہ سے ہو کر واپس پنجاب آیا۔اس سفر میں مجھے بعض نیک آدمی بھی ملے لیکن وہ بات نظر نہ آئی جس کی مجھے تلاش تھی۔پھر میں وطن