سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 319
سیرت المہدی 319 حصہ دوم کے سامنے رکھنی شروع کر دیں اور بعد میں فرمایا کہ دیکھو کس نے زیادہ کھجوریں کھائی ہیں؟ چنانچہ دیکھا تو حضرت علی کے سامنے کھجوروں کی گٹھلیوں کا ایک خاصہ ڈھیر لگا رکھا تھا۔کیونکہ علاوہ آنحضرت ﷺ کے دوسرے صحابہ نے بھی اپنی گٹھلیوں کا بیشتر حصہ حضرت علی کے سامنے جمع کر دیا تھا یہ دیکھ کر حضرت علی پہلے تو کچھ شرمائے کہ میں سب سے زیادہ پیٹو ثابت ہوالیکن جوانی کی عمر تھی اور ذہن بھی رسا ر کھتے تھے فوراً بولے کہ بات یہ ہے کہ میں نے تو صرف کھجور کا گودا کھایا ہے اس لئے میرے سامنے گٹھلیاں جمع نظر آتی ہیں۔لیکن دوسرے لوگ گٹھلیاں بھی ساتھ ہی چٹ کر گئے ہیں۔اس لئے ان کے سامنے گٹھلیاں نظر نہیں آتیں۔اس پر آنحضرت ﷺ بہت ہنسے۔اسی طرح ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے ایک عمر رسیدہ بوڑھی عورت نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے واسطے دعا فرمائیں کہ خدا مجھے جنت میں جگہ دے۔آپ نے فرمایا کہ جنت میں تو کوئی بوڑھی عورت نہیں جائیگی۔وہ بے چاری بہت گھبرائی مگر آپ نے جلد ہی یہ کہہ کر اس کی تسلی کی ، کہ بات یہ ہے کہ جنت میں سب لوگ جوان بنا کر داخل کئے جاویں گے۔غرض جائز اور مناسب مزاح شانِ نبوت کے منافی نہیں بلکہ زندہ دلی کی علامت ہے اور مجھ سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت با مذاق طبیعت رکھتے تھے اور بعض اوقات تو خودا بتداء مزاح کے طور پر کلام فرماتے تھے۔350 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہمارے گھر میں ایک خادمہ عورت رہتی تھی جس کا نام مہر و تھا۔وہ بیچاری ایک گاؤں کی رہنے والی تھی اور ان الفاظ کو نہ بجھتی تھی جو ذرا زیادہ ترقی یافتہ تمدن میں مستعمل ہوتے ہیں چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اسے فرمایا کہ ایک خلال لاؤ ، وہ جھٹ گئی اور ایک پتھر کا ادویہ کوٹنے والا کھرل اُٹھا لائی جسے دیکھ کر حضرت صاحب بہت ہنسے اور ہماری والدہ صاحبہ سے ہنستے ہوئے فرمایا کہ دیکھو میں نے اس سے خلال مانگا تھا اور یہ کیا لے آئی ہے۔اسی عورت کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ میاں غلام محمد گا تب امرت سری نے دروازہ پر دستک دی اور کہا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرو کہ کا تب آیا ہے۔یہ پیغام لے کر وہ حضرت صاحب کے