سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 320
سیرت المہدی 320 حصہ دوم پاس گئی اور کہنے لگی کہ حضور قاتل دروازے پر کھڑا ہے اور بلاتا ہے۔حضرت صاحب بہت ہنسے۔351 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں عبداللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ شروع شروع میں حافظ حامد علی صاحب مرحوم حضرت صاحب کو مہندی لگا یا کرتے تھے۔بعض اوقات میں بھی حاضر ہوتا تھا تو حضرت صاحب کمال سادگی کے ساتھ میرے ساتھ گفتگو فرمانے لگ جاتے تھے جس کا اثر یہ ہوتا تھا کہ بات چیت کی وجہ سے چہرہ میں کچھ حرکت پیدا ہوتی تھی اور مہندی گرنے لگ جاتی تھی۔اس پر بعض اوقات حافظ حامد علی صاحب مرحوم عرض کرتے تھے کہ حضور ذرا دیر بات چیت نہ کریں مہندی ٹھہرتی نہیں ہے۔میں لگا کر باندھ لوں تو پھر گفتگو فرمائیں۔حضرت صاحب تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر کسی خیال کے آنے پر گفتگو فرمانے لگ جاتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعد میں کچھ عرصہ میاں عبداللہ نائی اور آخری زمانہ میں میاں عبد الرحیم نائی حضرت صاحب کو مہندی لگاتے تھے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب میاں عبداللہ صاحب نے یہ روایت بیان کی تو حضرت صاحب کی یاد نے ان پر اس قدر رقت طاری کی کہ وہ بے اختیار ہو کر رونے لگ گئے۔یہ محبت کے کرشمے ہیں۔بسا اوقات ایک معمولی سی بات ہوتی ہے مگر چونکہ وہ ایک ذاتی اور شخصی رنگ رکھتی ہے اور اس سے محبوب کے عادات و اطوار نہایت سادگی کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں۔اس لئے وہ بعض دوسری بڑی اور اہم باتوں کی نسبت دل کو زیادہ چوٹ لگاتی ہے۔352 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نورمحمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا یہ جو حدیث میں مرقوم ہے کہ اگر انسان اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔یہ کیا مسئلہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ شرمگاہ بھی تو جسم ہی کا ایک ٹکڑا ہے اس لئے یہ حدیث قوی نہیں معلوم ہوتی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر یہ روایت درست ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا یہ قول درست نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ بات آنحضرت ﷺ کے منہ سے نکلی ہوئی معلوم نہیں ہوتی۔اور حدیث میں روایتاً کوئی ضعف ہوگا۔واللہ اعلم۔353 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود