سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 318 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 318

سیرت المہدی 318 حصہ دوم لئے گے۔اس زمانہ میں جب ہم حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو حضور فرمایا کرتے تھے کہ شیخ مہر علی کے واسطے دُعا کیا کریں۔اور اگر کسی کو ان کے متعلق کوئی خواب آوے تو بتادے اور صبح کے وقت دریافت فرمایا کرتے تھے کہ کوئی خواب دیکھا ہے یا نہیں ؟ اور فرماتے تھے کہ رسول کریم ﷺ بھی صحابہ سے اسی طرح دریافت فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ جو ہم گئے تو فرمایا کہ شیخ صاحب کے واسطے دُعا کر کے سونا۔حافظ نبی بخش صاحب نے ہنس کر عرض کیا کہ یہ ( یعنی خاکسار نور محمد ) بہت وظیفہ پڑھتے رہتے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں تو وظیفہ نہیں کرتا صرف قرآن شریف ہی پڑھتا ہوں۔آپ مسکرا کر فرمانے لگے کہ تمہاری تو یہ مثال ہے کہ کسی شخص نے کسی کو کہا کہ یہ شخص بہت عمدہ کھانا کھایا کرتا ہے تو اس نے جواب میں کہا کہ میں تو کوئی اعلیٰ کھانا نہیں کھاتا صرف پلاؤ کھایا کرتا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف سے بڑھ کر اور کون سا وظیفہ ہے۔یہی بڑا اعلیٰ وظیفہ ہے۔349 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں اور حافظ نبی بخش صاحب حضرت صاحب کی ملاقات کے لئے گئے تو آپ نے عشاء کے بعد حافظ نبی بخش صاحب سے مخاطب ہو کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ”میاں نبی بخش آپ کہاں لیٹیں گے؟ میاں نور محمد تولید کی مشق کر رہے ہیں، بات یہ تھی کہ اس وقت میں جہاں لیٹا ہوا تھا میرے نیچے ایک ٹکڑا سرکنڈے کا پڑا تھا جو قد آدم لمبا تھا۔اسے دیکھ کر آپ نے بطور مزاح ایسا فرمایا۔کیونکہ دستور ہے کہ مردہ کو کسی سرکنڈہ سے ناپ کر لحد کو اس کے مطابق درست کیا کرتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت نہایت بانداق واقع ہوئی تھی اور بعض اوقات آپ اپنے خدام کے ساتھ بطریق مزاح بھی گفتگو فرمالیتے تھے۔دراصل حد اعتدال کے اندر جائز خوش طبعی بھی زندہ دلی کی علامت ہے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت یہ بھی بعض اوقات اپنے صحابہ سے خوش طبعی کے طریق پر کلام فرماتے تھے۔چنانچہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ اور حضرت علی اور بعض دوسرے صحابہ کھجور میں کھا رہے تھے کہ آپ کو حضرت علیؓ کے ساتھ مزاح کا خیال آیا اور آپ نے اپنی کھائی ہوئی کھجوروں کی گٹھلیاں بھی حضرت علی