سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 311 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 311

سیرت المہدی 311 حصہ دوم صاحب غالباً تین دن لدھیانہ میں ٹھہرے۔بہت لوگ ملاقات کے لئے آتے جاتے تھے اور حضرت صاحب جب چہل قدمی کے لئے باہر تشریف لے جاتے تھے تو اس وقت بھی بڑا مجمع لوگوں کا ساتھ ہوتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ سفر غالبًا ۱۸۸۴ء کے قریب کا ہوگا میر عباس علی صاحب جن کا اس روایت میں ذکر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے ملنے والے تھے مگر افسوس کہ دعوی مسیحیت کے وقت ان کو ٹھوکر لگی اور وہ زمرہ مخالفین میں شامل ہو گئے اور پھر جلد ہی اس دنیا سے گذر گئے۔نواب علی محمد صاحب رئیس جھجر لدھیانہ میں رہتے تھے اور حضرت صاحب سے بہت اخلاص رکھتے تھے۔مگر افسوس کہ اوائل زمانہ میں ہی فوت ہو گئے۔قاضی خواجہ علی صاحب بھی بہت پرانے اور مخلص لوگوں میں سے تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں۔مولوی عبد القادر صاحب بھی جو حکیم محمد حمر صاحب کے والد تھے کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں اور ان کے والد مولوی محمد موسیٰ صاحب تو اوائل زمانہ میں ہی فوت ہو گئے تھے۔مولوی جان محمد جو حضرت صاحب کے ہمراہ لدھیانہ گئے تھے قادیان کے رہنے والے تھے اور حضرت صاحب کے ایک مخلص خادم تھے۔ان کے لڑکے عرف میاں بگا کو ہمارے اکثر دوست جانتے ہوں گے میاں غفارا یکہ بان جو کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکا ہے۔مولوی جان محمد کا بھائی تھا۔340 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مالیر کوٹلہ بھی تشریف لے گئے تھے۔قریب آٹھ دس آدمی حضور کے ہمراہ تھے۔اس وقت تک ابھی مالیر کوٹلہ کی ریل جاری نہیں ہوئی تھی میں بھی حضور کے ہمرکاب تھا۔حضرت صاحب نے یہ سفر اس لئے اختیار کیا تھا کہ بیگم صاحبہ یعنی والدہ نواب ابرہیم علی خان صاحب نے اپنے اہل کاروں کو لدھیا نہ بھیج کر حضرت صاحب کو بلایا تھا کہ حضور مالیر کوٹلہ تشریف لا کر میرے لڑکے کو دیکھیں اور دعا فرمائیں۔کیونکہ نواب ابراہیم علی خان صاحب کو عرصہ سے خلل دماغ کا عارضہ ہو گیا تھا۔حضرت صاحب لدھیانہ سے دن کے دس گیارہ بجے قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر تین بجے کے قریب مالیر کوٹلہ پہنچے اور ریاست کے مہمان ہوئے جب صبح ہوئی تو بیگم صاحبہ نے اپنے اہل کاروں کو حکم دیا کہ حضرت صاحب کے لئے