سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 312 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 312

سیرت المہدی 312 حصہ دوم سواریاں لے جائیں تا کہ آپ باغ میں جا کر نواب صاحب کو دیکھیں۔مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمیں سواری کی ضرورت نہیں ہم پیدل ہی چلیں گے چنانچہ آپ پیدل ہی گئے۔اس وقت ایک بڑا ہجوم لوگوں کا آپ کے ساتھ تھا، جب آپ باغ میں پہنچے تو مع اپنے ساتھیوں کے ٹھہر گئے۔نواب صاحب کوٹھی سے باہر آئے اور پہلی دفعہ حضرت صاحب کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے لیکن پھر آگے بڑھ کر آئے اور حضرت سے سلام علیکم کیا اور کہا کہ کیا براہین کا چوتھا حصہ چھپ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں چھپا مگر انشاء اللہ قریب چھپ جائے گا۔اس کے بعد نواب صاحب نے کہا کہ آئے اندر بیٹھیں چنانچہ حضرت صاحب اور نواب صاحب کوٹھی کے اندر چلے گئے اور قریباً آدھ گھنٹہ اندر رہے۔چونکہ کوئی آدمی ساتھ نہ تھا اس لئے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ اندر کیا کیا باتیں ہوئیں۔اس کے بعد حضرت صاحب مع سب لوگوں کے پیدل ہی جامع مسجد کی طرف چلے آئے اور نواب صاحب بھی سیر کے لئے باہر چلے گئے۔مسجد میں پہنچ کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ سب لوگ پہلے وضو کریں اور پھر دورکعت نماز پڑھ کر نواب صاحب کی صحت کے واسطے دعا کریں۔کیونکہ یہ تمہارے شہر کے والی ہیں اور ہم بھی دعا کرتے ہیں۔غرض حضرت اقدس نے مع سب لوگوں کے دُعا کی اور پھر اس کے بعد فورا ہی لدھیانہ واپس تشریف لے آئے اور باوجود اصرار کے مالیر کوٹلہ میں اور نہ ٹھہرے۔341 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں قادیان کے سکول میں پڑھتا تھا تو اس زمانہ میں جولوگ حضور کے لئے کوئی پھل وغیرہ بطور ہدیہ لاتے تھے تو بعض اوقات میرے ہاتھ اندرون خانہ کو بھجواتے تھے عموماً حضور کچھ پھل بندہ کو بھی عطا فرما دیتے تھے اور بعض دفعہ تحریر کے کام میں اس قدر استغراق ہوتا تھا کہ بغیر میری طرف نظر اٹھانے کے فرما دیتے تھے کہ رکھ دو۔میں رکھ کر چلا آتا تھا۔﴿342 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک بڑا موٹا کتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں گھس آیا اور ہم بچوں نے اسے دروازے