سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 310 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 310

رت المہدی 310 حصہ دوم یعنی میر عباس علی صاحب جو اس عاجز کے خسر اور چاتھے کوئی اور حضرت کی صورت سے آشنا نہ تھا اس سفر میں تین آدمی حضرت صاحب کے ہمراہ تھے۔مولوی جان محمد صاحب اور حافظ حامد علی صاحب اور لالہ ملا وامل صاحب ، میر عباس علی صاحب اور ان کے ساتھ کئی ایک اور آدمی پلیٹ فارم کا ٹکٹ لے کر حضرت صاحب کے استقبال کے لئے سٹیشن پر گئے اور گاڑی میں آپ کو ادھر اُدھر تلاش کرنے لگے لیکن حضرت صاحب کہیں نظر نہ آئے۔کیونکہ آپ گاڑی کے پہنچتے ہی نیچے اتر کر سٹیشن سے باہر تشریف لے آئے تھے اور پھاٹک کے پاس کھڑے تھے۔خوش قسمتی سے میں بھی اس وقت وہیں کھڑا تھا کیونکہ مجھے خیال تھا کہ حضرت صاحب ضرور اسی راستہ سے آئیں گے۔میں نے اس سے قبل حضرت صاحب کو دیکھا ہوا نہیں تھا۔لیکن جو نہی کہ میری نظر آپ کے نورانی چہرہ پر پڑی میرے دل نے کہا کہ یہی حضرت صاحب ہیں اور میں نے آگے بڑھ کر حضرت صاحب سے مصافحہ اور دست بوسی کر لی۔اس کے بعد میر عباس علی صاحب وغیرہ بھی آ گئے اس وقت حضور کی زیارت کے لئے سٹیشن پر بہت بڑا مجمع تھا۔جن میں نواب علی محمد صاحب رئیس جھجر بھی تھے۔نواب صاحب مذکور نے میر صاحب سے کہا کہ میر صاحب! میری کوٹھی قریب ہے اور اس کے گرد باغ بھی ہے۔بہت لوگ حضرت مرزا صاحب کی ملاقات کیلئے آئیں گے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو حضرت صاحب کو یہیں ٹھہرالیا جاوے۔میر صاحب نے کہا کہ آج کی رات تو ان مبارک قدموں کو میرے غریب خانہ میں پڑنے دیں کل آپ کو اختیار ہے۔نواب صاحب نے کہا کہ ہاں بہت اچھا۔غرض حضرت صاحب کو قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بٹھا کر ہمارے محلہ صوفیاں میں ڈپٹی امیر علی صاحب کے مکان میں اتارا گیا۔نماز عصر کا وقت آیا تو حضرت صاحب نے اپنی جرابوں پر مسح کیا۔اس وقت مولوی محمد موسیٰ صاحب اور مولوی عبد القادر صاحب دونوں باپ بیٹا موجود تھے ان کو مسح کرنے پر شک گذرا تو حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت کیا یہ جائز ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں جائز ہے اس کے بعد مولوی محمد موسیٰ صاحب نے عرض کیا کہ حضور نماز پڑھا ئیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی عبدالقادر صاحب پڑھائیں پھر اس کے بعد مولوی عبد القادر صاحب ہی نماز پڑھاتے رہے۔اس موقعہ پر حضرت