سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 308 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 308

سیرت المہدی 308 حصہ دوم میں نے اسی خیال میں اس رات کو سوتے ہوئے مرزا صاحب کا یہ خط اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا۔صبح کو جب میں اُٹھا تو حسب عادت اشنان کی تیاری کرنے لگا اور اپنے م<mark>لا</mark>زم کو میں نے بازار سے وہی <mark>لا</mark>نے کیلئے بھیجا اور اپنے مکان میں ادھر اُدھر ٹہلنے لگا۔اس وقت اچانک زلزلے کا ایک سخت دھکا آیا اور اس کے بعد پیہم اس طرح دھکوں کا سلسلہ شروع <mark>ہوا</mark> کہ میرے دیکھتے دیکھتے آنافانا دھرم سالہ کی تمام عمارتیں ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گئیں ؛ اس وقت حضرت مرزا صاحب کے اس خط کا مضمون میری آنکھوں کے سا<mark>من</mark>ے پھر رہا تھا اور میرے <mark>من</mark>ہ سے بے اختیار نکل رہا تھا کہ واقعی یہ دنوں اور گھنٹوں اور <mark>من</mark>ٹوں کا عذاب نہیں بلکہ سیکنڈوں کا عذاب ہے۔جس نے ایک آن کی آن میں تمام شہر کو خاک میں م<mark>لا</mark> دیا ہے اور اس کے بعد میں حضرت مرزا صاحب کا بہت معتقد ہو گیا اور میں اُن کو ایک واقعی خدا رسیدہ انسان اور مصلح سمجھتا ہوں۔ماسٹر نذیر خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب وہ یہ قصہ بیان کر چکا تو دفتر ضلع کے ایک ہند و کلرک نے بطور اعتراض کے کہا کہ مرزا صاحب پر ایک جرم کی سزا میں جرمانہ بھی تو <mark>ہوا</mark> تھا۔ابھی میں نے اس کا جواب نہیں دیا تھا کہ پنڈت مو<mark>لا</mark> رام خود بخو د بو<mark>لا</mark> کہ ہاں ایک بیوقوف نے جرمانہ کر دیا تھا مگر عدالت اپیل میں وہ بری ہو گئے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی زلزلہ ہے جو ۴ ارا پریل ۱۹۰۵ء کو آیا تھا اور جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م نے <mark>اپنی</mark> تحریرات میں متعد دجگہ ذکر کیا ہے۔یہ زلزلہ ہندوستان کی تاریخ میں بے مثال تھا چنانچہ میں نے انسائیکلو پیڈیا میں پڑھا ہے کہ اس زلزلہ میں ع<mark>لا</mark>وہ <mark>لا</mark>کھوں <mark>کرو</mark>ڑوں روپیہ کے نقصان کے پندرہ ہزار جانوں کا بھی نقصان <mark>ہوا</mark> تھا۔336 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پر نالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے اور ک<mark>لا</mark>م کے دوران میں کبھی کبھی جوش کی حالت میں <mark>اپنی</mark> ٹانگ پر ہاتھ بھی مارا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب کی یہ روایت درست ہے مگر یہ لکنت صرف کبھی کبھی کسی خاص لفظ کے تلفظ میں ظاہر ہوتی تھی ور نہ ویسے عام طور پر آپ کی زبان بہت صاف چلتی تھی اور ٹانگ پر ہاتھ مارنے کے صرف یہ معنی ہیں کہ کبھی