سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 307 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 307

سیرت المہدی 307 حصہ دوم پیر سراج الحق صاحب سے جو الفاظ فرمائے وہ ایک خاص قسم کی قلبی کیفیت کے مظہر ہیں۔جو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل پر طاری ہوگی۔ورنہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے کلام میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت جھلکتی ہے جس کی مثال کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔اور کسی دوسرے کے کلام میں عشق کا وہ بلند معیار نظر نہیں آتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں آنحضرت علی کے متعلق نظر آتا ہے۔335 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ماسٹر محمد نذیر احمد خان صاحب متوطن نا دون ضلع کانگڑہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں امتحان انٹرنس پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ کیلئے دھرم سالہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں امید وار محرر ہوا تھا۔ان دنوں کا واقعہ ہے کہ میں دفتر میں بیٹھا تھا اور میرے ہاتھ میں ریویو آف ریـلـیـجــنـز کا پر چہ تھا کہ دھرم سالہ کے ڈسٹرکٹ بورڈ کا ہیڈ کلرک جس کا نام پنڈت مولا رام تھا دفتر ضلع میں کسی کام کیلئے آیا۔جب اس کی نظر ریویو آف ریلیجنز پر پڑی تو اس نے حیران ہو کر مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ بھی احمدی ہیں؟ میں نے کہا ہاں میں احمدی ہوں۔اس نے کہا تو پھر میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں جو حضرت مرزا صاحب کیساتھ میرا گذرا ہے چنانچہ اس نے بیان کیا کہ میں ایک مذہبی خیال کا آدمی ہوں اور چونکہ مرزا صاحب کی مذہبی امور میں بہت شہرت تھی میں نے ان کے ساتھ بعض مذہبی مسائل میں خط و کتابت شروع کی۔اس خط و کتابت کے دوران میں میں نے ان کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں بعض اعتراض تھے۔حضرت مرزا صاحب کا جو جواب میرے پاس اس خط کا آیا اس میں میرے اعتراضات کے متعلق کچھ جوابات لکھ کر پھر مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا کہ پنڈت صاحب ! آپ ان باتوں میں الجھے ہوئے ہیں حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا کا غضب آسمان پر بھڑک رہا ہے اور اس کا عذاب سالوں میں نہیں ،مہینوں میں نہیں ، دنوں میں نہیں ، گھنٹوں میں نہیں ،منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں زمین پر نازل ہونے والا ہے۔ان الفاظ کو پڑھ کر مجھ پر بہت اثر ہوا اور میں نے دل میں کہا کہ خواہ کچھ بھی ہومرزا صاحب ایک نیک آدمی ہیں ان کی بات یونہی رائیگاں نہیں جاسکتی۔چنانچہ میں ہر لحظہ اسی انتظار میں تھا کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے اور