سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 309 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 309

سیرت المہدی 309 حصہ دوم کبھی جوش تقریر میں آپ کا ہاتھ اُٹھ کر آپ کی ران پر گرتا تھا۔337 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اور عبدالرحیم خان صاحب پسر مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری مسجد مبارک میں کھانا کھا رہے تھے جو حضرت کے گھر سے آیا تھا۔ناگاہ میری نظر کھانے میں ایک مکھی پر پڑی چونکہ مجھے مکھی سے طبعاً نفرت ہے میں نے کھانا ترک کر دیا۔اس پر حضرت کے گھر کی ایک خادمہ کھانا اُٹھا کر واپس لے گئی۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت حضرت اقدس اندرون خانہ کھانا تناول فرما رہے تھے۔خادمہ حضرت کے پاس سے گذری تو اس نے حضرت سے یہ ماجرہ عرض کر دیا حضرت نے فوراً اپنے سامنے کا کھانا اُٹھا کر اس خادمہ کے حوالے کر دیا کہ یہ لے جاؤ اور اپنے ہاتھ کا نوالہ بھی برتن میں ہی چھوڑ دیا۔وہ خادمہ خوشی خوشی ہمارے پاس وہ کھا نا لائی اور کہا کہ لو حضرت صاحب نے اپنا تبرک دیدیا ہے۔اس وقت مسجد میں سید عبدالجبار صاحب بھی جو گذشتہ ایام میں کچھ عرصہ بادشاہ سوات بھی رہے ہیں، موجود تھے چنانچہ وہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو گئے۔338 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ۱۹۰۴ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں قیام پذیر تھے ایک دفعہ رات کو بارش ہونی شروع ہو گئی۔اس وقت حضرت اقدس مکان کی چھت پر تھے جہاں پر کہ ایک برساتی بھی تھی بارش کے اُتر آنے پر حضور اس برساتی میں داخل ہونے لگے مگر اس کے عین دروازے میں مولوی عبداللہ صاحب متوطن حضر و ضلع کیمبل پور نماز تہجد پڑھ رہے تھے۔انہیں دیکھ کر آپ دروازہ کے باہر کھڑے ہو گئے اور اسی طرح بارش میں کھڑے رہے حتی کہ مولوی عبداللہ صاحب نے اپنی نماز ختم کر لی پھر آپ برساتی میں داخل ہوئے۔339 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ اول ہی اؤل جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام زمانہ مجددیت میں لدھیانہ تشریف لے گئے اس وقت سوائے ایک شخص