سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 303
سیرت المہدی 303 حصہ دوم میں بالکل نہیں ہوتی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ظاہری صفائی کے متعلق اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ احکام پائے جاتے ہیں اور فسل کرنے اور کپڑے صاف رکھنے اور خوشبو لگانے کی بہت تاکید آئی ہے۔کیونکہ علاوہ طبی طور پر مفید ہونے کے ظاہری صفائی کا باطنی صفائی پر بھی اثر پڑتا ہے۔اور روح کی شگفتگی اور بشاشت ، جسم کی طہارت اور پاکیزگی سے متاثر ہوتی ہے۔اس وجہ سے انبیاء اور مرسلین کو خصوصاً ظاہری صفائی کا بہت خیال رہتا ہے۔اور وہ اپنے بدن اور کپڑوں کو نہایت پاک وصاف حالت میں رکھتے ہیں۔اور کسی قسم کی عفونت اور بد بو کو اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دیتے۔کیونکہ ان کو ہر وقت خدا کے دربار میں کام پڑتا ہے اور فرشتوں سے ملاقات رہتی ہے جہاں کسی قسم کی بدبودار چیز کو رسائی نہیں ہو سکتی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن نماز میں سجدہ کیا کرتے تھے وہاں سے کئی کئی دن تک بعد میں خوشبو آتی رہتی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود بہت کثرت کے ساتھ خوشبو کا استعمال فرماتے تھے۔ورنہ جیسا کہ بعض وقت عوام سمجھنے لگ جاتے ہیں۔یہ کوئی معجزہ نہیں ہوتا اور نہ کوئی خارق عادت بات ہوتی ہے بلکہ غیر معمولی صفائی اور طہارت کے نتیجہ میں یہ حالت پیدا ہو جاتی ہے۔مگر افسوس کہ آج کل کے مسلمان جہاں اور خوبیوں کو کھو بیٹھے ہیں وہاں صفائی اور طہارت کی خوبی سے بھی الا ماشاء اللہ معرا ہیں اور جن لوگوں کو کچھ تھوڑا بہت صفائی کا خیال رہتا ہے ان کی نظر بھی صرف سطحی صفائی تک محدود رہتی ہے۔یعنی اوپر کے کپڑے جو نظر آتے ہیں وہ تو صاف رکھے جاتے ہیں۔لیکن بدن اور بدن کے ساتھ کے کپڑے نہایت درجہ میلے اور متعفن حالت میں رہتے ہیں۔328 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت خلیفتہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے بیان فرمایا کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے حدیث پڑھتا تھا تو ایک دفعہ گھر میں مجھ سے حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ میاں تم آج کل مولوی صاحب سے کیا پڑھا کرتے ہو؟ میں نے کہا بخاری پڑھتا ہوں۔آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مولوی