سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 304 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 304

سیرت المہدی 304 حصہ دوم صاحب سے یہ پوچھنا کہ بخاری میں نہانے کا ذکر بھی کہیں آتا ہے یا نہیں ؟ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نہانے وغیرہ کے معاملہ میں کچھ بے پروائی فرماتے تھے اور کپڑوں کے صاف رکھنے اور جلدی جلدی بدلنے کا بھی چنداں خیال نہ رکھتے تھے۔اس لئے ان کو متوجہ کرنے کے لئے حضرت صاحب نے یہ الفاظ فرمائے ہوں گے۔329 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے تو شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم لاہوری نے اپنے مکان پر حضرت صاحب کو دعوت دی چنانچہ حضرت صاحب ان کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔اس موقعہ پر مستری محمد موسیٰ صاحب نے حضرت صاحب سے سوال کیا کہ حضور لوگوں میں مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بدن مبارک پر لکھی نہیں بیٹھتی تھی اور آپ جب پاخانہ کرتے تھے تو زمین اسے فور انگل لیتی تھی کیا یہ درست ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ فضول باتیں ہیں جو یو نہی بعد میں لوگوں نے بنالی ہیں اور پھر آپ نے چند منٹ تک اس قسم کے مسئلوں کے متعلق ایک مختصری اصولی تقریر فرمائی جس کا ماحصل یہ تھا کہ انبیاء اپنے جسمانی حالات میں دوسرے لوگوں کی طرح ہوتے ہیں۔اور خدا کے عام قانون کے باہر ان کا طریق نہیں ہوتا۔میں اسوقت بچہ تھا مگر یہ باتیں اور اس مجلس کا نقشہ اب تک میرے ذہن میں اسی طرح تازہ ہے۔330 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے غصہ کی حالت میں بھی گالی یا گالی کا ہمر نگ لفظ نہیں سُنا۔زیادہ سے زیادہ بیوقوف یا جاہل یا احمق کا لفظ فرما دیا کرتے تھے اور وہ بھی کسی ادنیٰ طبقہ کے ملازم کی کسی سخت غلطی پر شاذ و نادر کے طور پر۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت صاحب کسی ملازم کی سخت غلطی یا بیوقوفی پر جانور کا لفظ استعمال فرماتے تھے ، جس سے منشاء یہ ہوتا تھا کہ تم نے جو یہ فعل کیا ہے یہ انسان کے شایانِ شان نہیں بلکہ جانوروں کا سا کام ہے۔331 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مجھے چھپیس