سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 264 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 264

سیرت المہدی 264 حصہ اوّل شریعت کا مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو کچھ قرض دے تواصل سے زیادہ واپس نہ مانگے کیونکہ یہ سود ہو جاتا ہے۔لیکن بانہمہ اس بات کو شریعت نے نہ صرف جائز بلکہ پسندیدہ قرار دیا ہے کہ ہو سکے تو مقروض روپیہ واپس کرتے ہوئے اپنی خوشی سے قارض کو اصل رقم سے کچھ زیادہ دے دے۔علاوہ ازیں خاکسار کو یہ بھی خیال آتا ہے کہ گو شریعت نے رہن میں اصل مقصود ضمانت کے پہلوکورکھا ہے۔اور اسی وجہ سے عموماً فقہ والے رہن میں میعاد کو تسلیم نہیں کرتے لیکن شریعت کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض اوقات ایک امر ایک خاص بات کو ملحوظ رکھ کر جاری کیا جاتا ہے۔مگر بعد اس کے جائز ہو جانے کے اس کے جواز میں دوسری جہات سے بھی وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً سفر میں نماز کا قصر کرنا دراصل مبنی ہے اس بات پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں سفروں میں نکلتے تھے تو چونکہ دشمن کی طرف سے خطرہ ہوتا تھا۔اس لئے نماز کو چھوٹا کر دیا گیا۔لیکن جب سفر میں ایک جہت سے نماز قصر ہوئی تو پھر اللہ نے مومنوں کیلئے اس قصر کو عام کر دیا اور خوف کی شرط درمیان سے اٹھالی گئی۔پس گو رہن کی اصل بنیاد ضمانت کے اصول پر ہے لیکن جب اس کا دروازہ کھلا تو باری تعالیٰ نے اس کو عام کر دیا مگر یہ فقہ کی باتیں ہیں جس میں رائے دینا خاکسار کا کام نہیں۔295 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر کئی اخباروں نے آپ کے متعلق اپنی آراء کا اظہار کیا تھا۔ان میں سے بعض کی رائے کا اقتباس درج ذیل کرتا ہوں (۱) اخبار ٹائمز آف لنڈن نے جو ایک عالمگیر شہرت رکھتا ہے لکھا کہ ”مرزا صاحب شکل و شباہت میں صاحب عزت و وقار وجود میں تاثیر جذبہ رکھنے والے اور خوب ذہین تھے۔مرزا صاحب کے متبعین میں صرف عوام الناس ہی نہیں بلکہ بہت سے اعلی اور عمدہ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں۔یہ بات کہ یہ سلسلہ امن پسند اور پابند قانون ہے۔اس کے بانی کیلئے قابل فخر ہے۔ہمیں ڈاکٹر گر سفولڈ کی اس رائے سے اتفاق ہے کہ مرز اصاحب اپنے دعاوی میں دھوکا خوردہ تھے۔دھوکا دینے والے ہرگز نہ تھے“۔