سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 265
سیرت المہدی 265 حصہ اوّل (۲) علی گڑھ انسٹیٹیوٹ نے جو ایک غیر احمدی پرچہ ہے لکھا کہ ” مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا“۔(۳) دی یونیٹی کلکتہ یوں رقمطراز ہوا کہ ” مرحوم ایک بہت ہی دلچسپ شخص تھا۔اپنے چال چلن اور ایمان کے زور سے اس نے بیس ہزار متبع پیدا کر لئے تھے۔مرزا صاحب اپنے ہی مذہب سے پوری پوری واقفیت نہ رکھتے تھے بلکہ عیسائیت اور ہندو مذہب کے بھی خوب جاننے والے تھے۔ایسے آدمی کی وفات قوم کیلئے افسوسناک ہے۔“ (۴) صادق الاخبار ریواڑی نے جو ایک غیر احمدی پرچہ ہے۔ان الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کیا کہ واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کما حقہ ادا کر کے خدمت دین اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم، حامی اسلام اور معین المسلمین فاضل اجل عالم بے بدل کی نا گہانی اور بے وقت موت پر افسوس کیا جاوے“۔(۵) تہذیب نسواں لاہور کے ایڈیٹر صاحب جو ہمارے سلسلہ سے موافقت نہیں رکھتے یوں گویا ہوئے کہ مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دل کو تسخیر کر لیتی تھی۔وہ نہایت باخبر عالم، بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے۔ہم انہیں مذہباً مسیح موعود تو نہیں مانتے لیکن ان کی ہدایت اور رہنمائی مردہ روحوں کیلئے واقعی مسیحائی تھی۔“ (4) اخبار آر یہ پتر کالا ہور نے جو ایک سخت معاند آریہ اخبار ہے لکھا کہ ”جو کچھ مرزا صاحب نے اسلام کی ترقی کیلئے کیا ہے اسے مسلمان ہی خوب بج کر سکتے ہیں مگر ایک قابل نوٹس بات جو ان کی تصانیف میں پائی جاتی ہے اور جو دوسروں کو بھی معلوم ہوسکتی ہے یہ ہے کہ عام طور پر جو اسلام دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اس کی نسبت مرزا صاحب کے خیالات اسلام کے متعلق زیادہ وسیع اور زیادہ قابل برداشت تھے۔مرزا صاحب کے تعلقات آریہ سماج سے کبھی بھی دوستانہ نہیں ہوئے۔اور جب ہم آریہ سماج کی گذشتہ تاریخ کو یاد کرتے ہیں تو اُن کا وجود ہمارے سینوں میں بڑا جوش پیدا کرتا ہے۔“ (۷) رسالہ ”اندر“ لاہور جو آریوں کا ایک اخبار تھا یوں رقمطراز ہوا کہ اگر ہم غلطی نہیں کرتے تو مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد صاحب ( ﷺ) سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال