سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 263 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 263

سیرت المہدی 263 حصہ اوّل اتنی کم ہو گئی کہ آپ کے بدن میں پھر پہلے کی سی طاقت آگئی۔اور آپ اچھی طرح کام کرنے کے قابل ہو گئے۔294 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے پیر افتخار احمد صاحب نے کہ ایک دفعہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ میں نے دیکھا کہ مرزا نظام الدین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوچہ بندی میں کھڑے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ڈیوڑھی سے نکلے اور آپ کے ہاتھ میں دو بند لفافے تھے۔یہ لفافے آپ نے مرزا نظام الدین کے سامنے کر دیئے کہ ان میں سے ایک اٹھا لیں۔انہوں نے ایک لفافہ اٹھالیا اور دوسرے کو لیکر حضرت صاحب فوراً اندر واپس چلے گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے حضرت والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لفافے باغ کی تقسیم کے متعلق تھے چونکہ حضرت مسیح موعود نے باغ کا نصف حصہ لینا اور نصف مرزا سلطان احمد کو جانا تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے اس تقسیم کیلئے قرعہ کی صورت اختیار کی تھی۔اور مرز انظام الدین مرزا سلطان احمد کی طرف سے مختار کار تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس تقسیم کے مطابق باغ کا جنوبی نصف حصہ حضرت صاحب کو آیا اور شمالی نصف مرزا سلطان احمد صاحب کے حصہ میں چلا گیا اور حضرت والدہ صاحبہ نے خاکسار سے بیان کیا کہ اس تقسیم کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب کو کسی دینی غرض کیلئے کچھ روپے کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے تم اپناز یور دے دو۔میں تم کو اپنا باغ رہن دے دیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے سب رجسٹرار کو قادیان میں بلوا کر با قاعدہ رہن نامہ میرے نام کروا دیا۔اور پھر اندر آ کر مجھ سے فرمایا کہ میں نے رہن کیلئے میں سال کی میعاد لکھ دی ہے کہ اس عرصہ کے اندر یہ رہن فک نہیں کروایا جائیگا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ رہن کے متعلق میعاد کوعموماً فقہ والے جائز قرار نہیں دیتے۔سوا گر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول کی اہل فقہ کے قول سے تطبیق کی ضرورت سمجھی جاوے تو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ گویا حضرت صاحب نے میعاد کور بہن کی شرائط میں نہیں رکھا۔بلکہ اپنی طرف سے یہ بات زائد بطور احسان و مرقت کے درج کرا دی۔کیونکہ ہر شخص کو حق ہے کہ بطور احسان اپنی طرف سے جو چاہے دوسرے کو دیدے۔مثلاً یہ