سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 261 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 261

سیرت المہدی 261 حصہ اوّل ہے۔مولوی صاحب کو دیکھتا ہوں تو رنگ فق ہو رہا ہے۔حضرت صاحب کو خبر ہوئی تو معمولی ہشاش بشاش چہرہ تقسم زیر لب تشریف لائے اور بڑا عذر کیا کہ ”مولوی صاحب کو کاغذ کے گم ہونے سے بڑی تشویش ہوئی۔مجھے افسوس ہے کہ اس کی جستجو میں اس قدر تکاپو کیوں کیا گیا۔میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بہتر عطا فرما دیگا۔“ 293 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہ جن دنوں میں حضرت صاحب نے شروع شروع میں مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تھا۔میں طالب علم تھا اور لاہور میں پڑھتا تھا۔ان دنوں میں حضرت مولوی نور الدین صاحب حضرت صاحب کو ملنے کے لئے جموں سے آئے۔اور راستہ میں لاہور ٹھہرے۔چونکہ مولوی صاحب کے ساتھ میرے والد صاحب کے بہت تعلقات تھے۔اور وہ مجھے تاکید فرماتے رہتے تھے۔کہ مولوی صاحب سے ضرور ملتے رہا کرو۔اس لئے میں مولوی صاحب سے ملنے کے لئے گیا۔مولوی صاحب ان دنوں نمازیں چونیاں کی مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔وہاں مولوی صاحب نماز پڑھنے گئے۔اور حوض پر بیٹھ کر وضو کرنے لگے۔تو اُدھر سے مولوی محمد حسین بٹالوی بھی آ گیا۔اور اس نے مولوی صاحب کو دیکھتے ہی کہا۔کہ مولوی صاحب ! تعجب ہے کہ آپ جیسا شخص بھی مرزا کے ساتھ ہو گیا ہے۔مولوی صاحب نے جواب دیا کہ مولوی صاحب میں نے تو مرزا صاحب کو صادق اور منجانب اللہ پایا ہے۔اور میں سچ کہتا ہوں۔کہ میں نے ان کو یونہی نہیں مانا۔بلکہ علی وجہ البصیرت مانا ہے۔اس پر باہم بات ہوتی رہی۔آخر مولوی محمدحسین نے کہا۔کہ اب میں آپ کو لاہور سے جانے نہیں دوں گا۔حتی کہ آپ میرے ساتھ اس معاملہ میں بحث کر لیں۔مولوی صاحب نے فرمایا۔کہ اچھا میں تیار ہوں۔اس پر اگلا دن بحث کے لئے مقرر ہو گیا۔چنانچہ دوسرے دن مولوی صاحب کی مولوی محمد حسین کے ساتھ بحث ہوئی لیکن ابھی بحث ختم نہ ہونے پائی تھی۔کہ مولوی صاحب کو جموں سے مہا راج کا تار آ گیا۔کہ فوراً چلے آؤ۔چنانچہ مولوی صاحب فوراً لا ہور سے بطرف لدھیانہ روانہ ہو گئے۔تا کہ حضرت صاحب سے ملاقات کر کے واپس تشریف لے جائیں۔اس کے کچھ عرصہ بعد میں لاہور سے تعلیم کے لئے