سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 262 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 262

سیرت المہدی 262 حصہ اوّل دیو بند جانے لگا تو راستہ میں اپنے ایک غیر احمدی دوست مولوی ابراہیم کے پاس لدھیانہ ٹھہرا۔وہاں مجھے مولوی ابراہیم نے بتایا کہ آجکل مرزا صاحب قادیانی یہیں ہیں۔میں نے اسے کہا کہ مرزا صاحب کی مخالفت بہت ہے اور میرے یہاں لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اس لئے میں تو نہیں جاسکتا لیکن آپ کے ساتھ اپنا ایک طالب علم بھیج دیتا ہوں جو آپ کو مرزا صاحب کے مکان کا راستہ بتا دیگا۔چنانچہ میں اکیلا حضرت صاحب کی ملاقات کیلئے گیا۔جب میں اس مکان پر پہنچا جہاں حضرت صاحب قیام فرما تھے تو اس وقت آپ اندر کے کمرہ سے نکل کر باہر نشست گاہ میں تشریف لا رہے تھے۔میں نے مصافحہ کیا اور بیٹھ گیا۔اس وقت شاید حضرت صاحب کے پاس شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری اور کوئی اور صاحب تھے۔حضرت صاحب سر نیچا کر کے خاموش بیٹھ گئے۔جیسے کوئی شخص مراقبہ میں بیٹھتا ہے۔شیخ صاحب نے یا جو صاحب وہاں تھے انگریزی حکومت کا کچھ ذکر شروع کر دیا کہ یہ حکومت بہت اچھی ہے۔اور ایک لمبا عرصہ ذکر کرتے رہے مگر حضرت صاحب اسی طرح سر نیچے ڈالے آگے کی طرف جھکے ہوئے بیٹھے رہے اور کچھ نہیں بولے۔مگر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ سن رہے ہیں۔ایک موقعہ پر آپ نے کسی بات پر صرف ہاں یا نہ کا لفظ بولا اور پھر اسی طرح خاموش ہو گئے۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ کا رنگ زرد تھا اور آپ اتنے کمزور تھے کہ کچھ حد نہیں۔کچھ دیر کے بعد میں مصافحہ کر کے وہاں سے اُٹھ آیا۔جب میں مولوی ابراہیم کے مکان پر پہنچا تو اس نے پوچھا کہ کہو مرزا صاحب سے مل آئے ؟ میں نے کہا ہاں ! مگر لوگوں نے یونہی مخالفت کا شور مچارکھا ہے۔مرزا صاحب تو صرف چند دن کے مہمان ہیں بچتے نظر نہیں آتے“۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اسوقت میرا یہی یقین تھا کہ ایسا کمزور شخص زیادہ عرصہ نہیں زندہ رہ سکتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابتدائے دعوئی کے زمانہ میں چونکہ بیماری کے دوروں کی بھی ابتدا تھی۔حضرت صاحب کی صحت سخت خراب ہوگئی تھی اور آپ ایسے کمزور ہو گئے تھے کہ ظاہری اسباب کے رُو سے واقعی صرف چند دن کے مہمان نظر آتے تھے۔غالباً انہی دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا کہ تُرَدُّ عَلَيْكَ انْوَارَ الشَّبَابِ تذکره صفحه ۵۲۹ مطبوعہ ۲۰۰۴) یعنی اللہ فرماتا ہے کہ تیری طرف شباب کے انوار لوٹائے جائیں گے۔چنانچہ اس کے بعد گوجیسا کہ دوسرے الہامات میں ذکر ہے۔یہ بیماری تو آپ کے ساتھ رہی لیکن دوروں کی سختی