سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 255 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 255

سیرت المہدی 255 حصہ اوّل مؤلف)۔۔۔۔۔ہم یہ قابلیت نہیں رکھتے کہ ان کی عالمانہ حیثیت کے متعلق کوئی رائے لگا سکیں۔۔۔مرزا صاحب کو اپنے دعوی کے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا۔اور وہ کامل صداقت اور خلوص سے اس بات کا یقین رکھتے تھے۔کہ ان پر کلام الہی نازل ہوتا ہے اور یہ کہ ان کو ایک خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ انہوں نے بشپ ویلڈن کو چیلنج دیا (جس نے اس کو حیران کر دیا) کہ وہ نشان نمائی میں ان کا مقابلہ کرے۔یہ چیلنج اسی طریق پر تھا۔جیسا کہ الیاس نبی نے بعل کے پروہتوں کو چیلنج دیا تھا۔اور مرزا صاحب نے اس مقابلہ کا یہ نتیجہ قرار دیا کہ یہ فیصلہ ہو جائیگا۔کہ سچا مذ ہب کون سا ہے اور مرزا صاحب اس بات کے لئے تیار تھے۔کہ حالاتِ زمانہ کے ماتحت پادری صاحب جس طرح چاہیں اپنا اطمینان کر لیں کہ نشان دکھانے میں کوئی دھوکہ اور فریب استعمال نہ ہو۔وہ لوگ جنہوں نے مذہب کے رنگ میں دنیا کے اندر ایک حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں مرزا غلام احمد خان سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔بہ نسبت مثلاً ایسے شخص کے جیسا کہ اس زمانہ میں انگلستان کالاٹ پادری ہوتا ہے۔اگر ارنسٹ رین ( فرانس کا ایک مشہور مصنف ہے۔مؤلف )۔گذشتہ بیس سال میں ہندوستان میں ہوتا۔تو وہ یقیناً مرزا صاحب کے پاس جاتا اور ان کے حالات کا مطالعہ کرتا۔جس کے نتیجہ میں انبیاء بنی اسرائیل کے عجیب و غریب حالات پر ایک نئی روشنی پڑتی۔بہر حال قادیان کا نبی ان لوگوں میں سے تھا۔جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔“ 283 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا۔اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عمر کے متعلق حضرت صاحب کے سب اندازے ہی ہیں۔کوئی یقینی علم نہیں ہے۔پس آپ کی تاریخ پیدائش اور عمر کے متعلق اگر کوئی قابل اعتماد ذریعہ ہے تو یہی ہے کہ مختلف جہات سے اس سوال پر غور کیا جاوے۔اور پھر اُن کے مجموعی نتیجہ سے کوئی رائے قائم کی جاوے کسی منفرد کٹڑی سے اس سوال کا حل مشکل ہے۔خود حضرت صاحب کی اپنی تحریرات اس معاملہ میں ایک دوسرے کے مخالف پڑتی ہیں۔کیونکہ وہ کسی قطعی علم پر مبنی نہیں