سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 254 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 254

سیرت المہدی 254 حصہ اوّل مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید کے پاس کسی نے یہ بات پہنچائی۔کہ فلاں سکھ سپاہی اس بات کا دعویٰ رکھتا ہے کہ کوئی شخص تیرنے میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس پر شہید مرحوم کو غیرت آگئی اور اسی وقت سے انہوں نے تیرنے کی مشق شروع کر دی۔اور بالآخر اتنی مہارت پیدا کر لی کہ پہروں پانی میں پڑے رہتے تھے۔اور فرماتے تھے۔کہ اب وہ سکھ میرے ساتھ مقابلہ کرلے۔گویا ان کو یہ گوارا نہ ہوا۔کہ ایک غیر مسلم تیرنے کی صفت میں بھی مسلمانوں پر فوقیت رکھے۔حالانکہ یہ ایک معمولی دنیاوی بات تھی۔سو معلوم ہوتا ہے۔کہ اس وقت بھی ایسے رنگ میں گفتگو ہوئی ہوگی۔کہ حضرت مسیح موعود کو بلا سنگھ کے مقابلہ میں غیرت آگئی اور پھر عالم بھی شباب کا تھا۔281 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود سفر میں تھے اور لاہور کے ایک سٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فرمارہے تھے۔اس وقت پنڈت لیکھر ام حضور سے ملنے کے لئے آیا۔اور آکر سلام کیا مگر حضرت صاحب نے کچھ جواب نہیں دیا اُس نے اس خیال سے کہ شائد آپ نے سنا نہیں۔دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کیا۔مگر آپ نے پھر بھی توجہ نہیں کی۔اس کے بعد حاضرین میں سے کسی نے کہا۔کہ حضور پنڈت لیکھرام نے سلام کیا تھا۔آپ نے فرمایا۔”ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے۔اور ہمیں سلام کرتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ وہ عشق تھا کہ جس کی مثال نظر نہیں آتی۔282 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت حضرت مسیح موعود فوت ہوئے۔تو بہت سے ہندو اور عیسائی اخباروں نے آپ کے متعلق نوٹ شائع کئے تھے۔چنانچہ نمونةً ہندوستان کے ایک نہایت مشہور و معروف انگریزی اخبار ” پائنیر الہ آباد کی رائے کا اقتباس درج ذیل کرتا ہوں۔پائنیر کے ایڈیٹر اور منیجر اور مالک سب انگریز عیسائی ہیں۔’پائنیر نے لکھا کہ :۔اگر گذشتہ زمانہ کے اسرائیلی نبیوں میں سے کوئی نبی عالم بالا سے واپس آکر اس زمانہ میں دنیا کے اندر تبلیغ کرے تو وہ بیسویں صدی کے حالات میں اس سے زیادہ غیر موزوں معلوم نہ ہوگا۔جیسا کہ مرزا غلام احمد خان قادیانی تھے۔( یعنی مرزا صاحب کے حالات اسرائیلی نبیوں سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔