سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 252 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 252

سیرت المہدی 252 حصہ اوّل سیرت کی جلد اول تھوڑے دنوں میں روانہ خدمت کر دوں گا۔فقط “ (اس سے مراد شیخ یعقوب علی صاحب کی تصنیف ہے۔جو میں نے مولوی صاحب کو بھجوائی تھی۔اور جس کی روایت کی اپنے دوسرے خط میں انہوں نے تصدیق کی ہے۔خاکسار ) حضرت مسیح موعود کے حالات کے متعلق مولوی صاحب اپنے اسی خط میں یوں رقمطراز ہیں۔حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میں جو اس عاصی پر معاصی کے غریب خانہ کے بہت قریب ہے۔عمرا نا می کشمیری کے مکان پر کرایہ پر رہا کرتے تھے۔کچہری سے جب تشریف لاتے تھے۔تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔بیٹھ کر کھڑے ہو کر ، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے۔اور زار زار رویا کرتے تھے۔ایسی خشوع و خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔حسب عادت زمانہ صاحب حاجات جیسے اہل کاروں کے پاس جاتے ہیں۔ان کی خدمت میں بھی آجایا کرتے تھے۔اسی عمرا مالک مکان کے بڑے بھائی فضل دین نام کو جو فی الجملہ محلہ میں موقر تھا۔آپ بلا کر فرماتے۔میاں فضل دین ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ آیا کریں۔نہ اپنا وقت ضائع کیا کریں اور نہ میرے وقت کو برباد کیا کریں۔میں کچھ نہیں کر سکتا۔میں حاکم نہیں ہوں۔جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے۔کچہری میں ہی کر آتا ہوں۔فضل دین ان لوگوں کو سمجھا کر نکال دیتے۔مولوی عبد الکریم صاحب بھی اسی محلہ میں پیدا ہوئے اور جوان ہوئے جو آخر میں مرزا صاحب کے خاص مقربین میں شمار کئے گئے۔اس کے بعد وہ مسجد جامع کے سامنے ایک بیٹھک میں بمع منصب علی حکیم کے رہا کرتے تھے۔وہ ( یعنی منصب علی خاکسار (مؤلف) وثیقہ نویسی کے عہدہ پر ممتاز تھے۔بیٹھک کے قریب ایک شخص فضل دین نام بوڑھے دوکاندار تھے جو رات کو بھی دکان پر ہی رہا کرتے تھے۔۔ان کے اکثر احباب شام کے بعد ان کی دکان پر آجاتے تھے۔چونکہ شیخ صاحب پارسا آدمی تھے۔اس لئے جو وہاں شام کے بعد آتے سب اچھے ہی آدمی ہوتے تھے۔کبھی کبھی مرزا صاحب بھی تشریف لایا کرتے تھے اور گاہ گاہ نصر اللہ نام عیسائی جو ایک مشن سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔آجایا کرتے تھے۔مرزا صاحب اور ہیڈ ماسٹر کی اکثر بحث مذہبی امور میں