سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 251
سیرت المہدی 251 حصہ اوّل باتوں کا اثر ہوتا جاتا ہے۔تو سب سے پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی نے ایک استفتاء تیار کیا۔اور اس میں حضرت مسیح موعود کے متعلق علماء سے فتویٰ کفر کا طالب ہوا۔چنانچہ سب سے پہلے اس نے اپنے استاد مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی سے فتویٰ کفر حاصل کیا۔چونکہ مولوی نذیر حسین تمام ہندوستان میں مشہور و معروف مولوی تھے۔اور اہل حدیث کے تو گویا امام تھے اور شیخ الکل کہلاتے تھے۔اس لئے ان کے فتویٰ دینے سے اور پھر مولوی محمد حسین جیسا مشہور مولوی مستفتی تھا۔باقی اکثر مولویوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کفر نامے پر اپنی مہریں ثبت کرنی شروع کیں۔اور قریباً دو سو مولویوں کی مہر تصدیق سے یہ فتویٰ ۱۸۹۲ء میں شائع ہوا اور اس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوئی۔کہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا یا جائے گا۔280 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے عالم شباب کے زمانہ قیام سیالکوٹ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی کی تصنیف حیاۃ النبی سے مولوی میرحسن صاحب سیالکوٹی کی روایت دوسری جگہ (یعنی نمبر ۱۵۰ پر درج کی جا چکی ہے۔اس روایت کے متعلق میں نے مولوی صاحب موصوف کو سیالکوٹ خط لکھا تھا۔مولوی صاحب نے اس کی تصدیق کی اور مجھے اپنی طرف سے اس کی روایت کی اجازت دی۔اس کے علاوہ میری درخواست پر مولوی صاحب موصوف نے انہی ایام کے بعض مزید حالات بھی لکھ کر مجھے ارسال کئے ہیں۔جو میں درج ذیل کرتا ہوں۔مولوی صاحب لکھتے ہیں۔حضرت مخدوم زادہ والا شان سموالمکان زاد الطافکم“۔بعد از سلام مسنون عرض خدمت والا یہ ہے کہ چند در چند عوائق وموانع کے باعث آپ کے ارشاد کی تعمیل میں دیر واقع ہوئی امید ہے آپ معاف فرمائیں گے۔چونکہ عرصہ دراز گذر چکا ہے۔اور اس وقت یہ باتیں چنداں قابل توجہ اور التفات نہیں خیال کی جاتی تھیں۔اس واسطے اکثر فراموش ہو گئیں۔جو یا د کر نے میں بھی یاد نہیں آتیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ادنی تامل سے بھی دیکھنے والے پر واضح ہو جاتا ہے۔کہ حضرت اپنے ہر قول و فعل میں دوسروں سے ممتاز ہیں۔فقط راقم جناب کا ادنی نیازمند میرحسن۔۲۶ نومبر ۱۹۲۲ء