سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 253 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 253

سیرت المہدی 253 حصہ اوّل ہو جاتی تھی۔مرزا صاحب کی تقریر سے حاضرین مستفید ہوتے تھے۔مولوی محبوب عالم صاحب ایک بزرگ نہایت پارسا اور صالح اور مرتاض شخص تھے۔مرزا صاحب ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے۔اور لالہ بھیم سین صاحب وکیل کو بھی تاکید فرماتے تھے۔کہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرو۔چنانچہ وہ بھی مولوی صاحب کی خدمت میں کبھی کبھی حاضر ہوا کرتے تھے۔جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا۔تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے۔کہ انسان کو خود سعی اور محنت کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمُ سُبُلَنَا (العنكبوت (۷۰)۔مولوی محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے۔کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔دینیات میں مرزا صاحب کی سبقت اور پیشروی تو عیاں ہے۔مگر ظاہری جسمانی دوڑ میں بھی آپ کی سبقت اس وقت کے حاضرین پر صاف ثابت ہو چکی تھی۔اس کا مفصل حال یوں ہے کہ ایک دفعہ کچہری برخاست ہونے کے بعد جب اہل کارگھروں کو واپس ہونے لگے۔تو اتفاقاً تیز دوڑنے اور مسابقت کا ذکر شروع ہو گیا۔ہر ایک نے دعوی کیا کہ میں بہت دوڑ سکتا ہوں۔آخر ایک شخص بلا سنگھ نام نے کہا۔کہ میں سب سے دوڑنے میں سبقت لے جاتا ہوں۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میرے ساتھ دوڑو تو ثابت ہو جائے گا کہ کون بہت دوڑتا ہے۔آخر شیخ الہ داد صاحب منصف مقرر ہوئے۔اور یہ امر قرار پایا کہ یہاں سے شروع کر کے اس پل تک جو کچہری کی سڑک اور شہر میں حد فاصل ہے۔ننگے پاؤں دوڑو۔جوتیاں ایک آدمی نے اٹھا لیں اور پہلے ایک شخص اس پل پر بھیجا گیا تا کہ وہ شہادت دے کہ کون سبقت لے گیا اور پہلے پل پر پہنچا۔مرزا صاحب اور بلا سنگھ ایک ہی وقت میں دوڑے۔اور باقی آدمی معمولی رفتار سے پیچھے روانہ ہوئے۔جب پل پر پہنچے۔تو ثابت ہوا کہ مرزا صاحب سبقت لے گئے اور بلا سنگھ پیچھے رہ گیا۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات دینی غیرت دنیاوی باتوں میں بھی رونما ہوتی ہے۔چنانچہ مشہور ہے کہ