سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 241 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 241

سیرت المہدی 241 حصہ اوّل دفعہ حضرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے گھر میں دولڑکیاں رہتی ہیں ان کو میں لاتا ہوں آپ اُن کو دیکھ لیں۔پھر اُن میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جاوے۔چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا۔اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے اُن کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اُن کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے۔وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے کی میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے۔پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اور کوئی شخص وہاں نہ تھا۔اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے۔اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا ، جس سے ان کو کچھ معلوم نہیں ہوا۔مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمد صاحب کا رشتہ نہیں ہوا۔یہ مدت کی بات ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے نبیوں میں خوبصورتی کا احساس بھی بہت ہوتا ہے۔دراصل جو شخص حقیقی حسن کو پہچانتا اور اس کی قدر کرتا ہے وہ مجازی حسن کو بھی ضرور پہچانے گا اور اس کے مرتبے کے اندراندر اس کی قدر کرے گا۔آنحضرت ﷺ کے متعلق احادیث میں روایت آتی ہے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار میں سے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ بغیر دیکھے کے شادی نہ کرنا۔بلکہ پہلے لڑکی کو دیکھ لینا کیونکہ انصارلڑکیوں کی آنکھ میں عموما نقص ہوتا ہے۔ایک اور صحابی جابڑ سے جس نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی۔مگر وہ خود بھی نوجوان لڑکا تھا۔آپ نے فرمایا ”میاں کسی باکرہ لڑکی سے کیوں نہ شادی کی جو تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم اس کے ساتھ کھیلتے“۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں کچھ کام کرنا ہوتا ہے ان کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کی خانگی زندگی